عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 12 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 12

12 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول ہی اسے نظام میں دخل دینے اور اس کا توازن بگاڑنے پر کوئی مقدرت ہے۔اس کی مزید وضاحت ان خلیات کے ذریعے کی جاسکتی ہے جن سے تمام انواع حیات معرض وجود میں آتی ہیں۔درحقیقت ہر ایک خلیے کے اندر کسی بھی جاندار کی صفات کا حامل وسیع اور پیچیدہ نظام موجود ہے جس کے توازن کو بگاڑنے کا انسان کو کوئی اختیار نہیں ہے۔پس اَسْفَلَ سَفِلِينَ میں گرنے کے ایک اور معنی انسان کی ذہنی صلاحیتوں میں بگاڑ کے بھی ہو سکتے ہیں۔جو لوگ اپنے دماغ پر اختیار کھو بیٹھتے ہیں وہ بعض اوقات جانوروں جیسی حرکات کرنے لگتے ہیں۔یہ مماثلتیں جسمانی سے زیادہ ذہنی ہوتی ہیں اور بے شمار ہوسکتی ہیں۔پاگل شخص کتوں اور سوروں جیسی حرکات بھی کر سکتا ہے یا اس سے بھی اونی جانوروں کی نقالی کر سکتا ہے۔پس آج بھی انسانی زندگی ایک وسیع اور عظیم الشان نظام تقویم کے سہارے قائم ہے اور انسان کی خوش نصیبی ہے کہ وہ الا ماشاء اللہ اس نظام میں دخل اندازی کا اختیار نہیں رکھتا البتہ جہاں وہ اخلاقی حدود کو توڑتا ہے وہیں جانوروں کی مانند بلکہ اُن سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔درحقیقت یہی وہ دائرہ ہے جس کے متعلق ہم یقین سے کہ سکتے ہیں کہ اَسْفَلَ سَفِلِينَ کا قرآنی اصول پورے طور پر اطلاق پاسکتا اور پاتا ہے۔یہ انسان ہی تو ہے جو اپنے جیسے انسانوں کی دشمنی میں درندوں سے بھی بڑھ جاتا ہے۔پس ضروری ہے کہ ہم اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ انسان کن امور میں با اختیار ہے کیونکہ اَسْفَلَ سَفِلِينَ کا عمل صرف اسی دائرہ میں جاری ہوگا جس میں اسے اختیار بخشا گیا۔انسان سے ادنی حیوانی حالتوں میں ہمیں یہ دکھائی دیتا ہے کہ حیوانات کا طرز عمل بڑی حد تک اپنی جبلی قوتوں کے تابع ہوتا ہے۔ان کی سوچ اور قوت فیصلہ کا ان کی روز مرہ زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔کوئی ایسا ضابطہ حیات ان کے سامنے نہیں ہوتا جس کو باشعور طور پر اختیار کرنا یا نہ کرنا ان کے قبضہ قدرت میں ہو۔چنانچہ ان کی زندگی کے جملہ شعبہ جات فطری قوانین کے تابع ہوتے ہیں اور وہ فطری قوانین کی پیروی پر مجبور ہیں۔اگر درندوں کو اپنی بقا کیلئے کسی خاص قسم کی غذا کی ضرورت ہے تو وہ اسے حاصل کرنے کیلئے وہ سب کچھ کر گزریں گے جو اُن کے بس میں ہے۔وہ کسی ضابطہ اخلاق کے پابند نہیں کہ یہ خوراک اس طریق پر حاصل کر دیا اُس طریق پر اس لئے ان کا اپنی بقا کیلئے کسی دوسرے جانور کو مارڈالنا عدل کے منافی قرار نہیں دیا جا سکتا نہ ہی کسی موقع پر کسی جانور کی زندگی تلف نہ کرنے کو عدل قرار دیا جا سکتا ہے۔جاسکتا۔