عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 10 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 10

10 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول کی مخلوقات کی ادنیٰ حالتوں سے اعلیٰ حالتوں کی طرف تمام تر ترقی تقویم اور تعدیل پر منحصر تھی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ارتقا کے اس سفر میں جوارب ہا ارب سال پر پھیلا پڑا ہے انسان کیلئے کوئی اگلی منزل بھی ہے؟ کیا یہ ارتقا اپنے نقطۂ اختتام تک پہنچ گیا ہے یا ابھی تک جاری وساری ہے؟ عقل یہ کہتی ہے کہ جب انسان نے عدل ہی کی بنا پر اتنی عظیم الشان ترقی کی ہے تو عدل سے انحراف کے نتیجہ میں ترقی معکوس بھی ضرور ہونی چاہئے اور انسان کو درجہ بدرجہ تنزل کی طرف لوٹ جانا چاہئے۔جسمانی ساخت کے اعتبار سے تو بے شک انسان تنزل کا شکار نہیں ہو گا لیکن یہ عین ممکن ہے کہ وہ ذہنی اور اخلاقی اور حواس خمسہ کی تکمیل کے اعتبار سے اس قدر نیچے گر جائے اور اتنا بگڑ جائے کہ جانوروں کی مانند ہو جائے۔مرتبہ ارتقا کے نقطۂ عروج تک پہنچائے جانے کے بعد انسان کو جو اختیار حاصل ہوتا ہے اس کے متعلق دوسرا امکان یہ ہے کہ اگر وہ عقل سے کام لے اور سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ارتقا سے سبق سیکھے اور جان لے کہ دراصل اس کا وجو دار ہوں سال پر محیط ارتقا کے عمل میں جاری عدل کا ثمرہ ہے تو لاز م وہ اپنے لئے ایسا لائحہ عمل مرتب کرے گا جو ہر گز قوانین عدل سے متصادم نہ ہو۔اس صورت میں ارتقا کا عمل رُکے گا نہیں بلکہ آہستہ آہستہ سہی لیکن استقلال کے ساتھ آگے بڑھتا چلا جائے گا اور انسان کو اُس کی ادنیٰ حالتوں سے اعلیٰ حالتوں کی طرف اُٹھاتا چلا جائے گا۔ارتقا کی ان دونوں قسموں میں فرق صرف یہ ہے کہ پہلی قسم کا ارتقا بنیادی طور پر جسمانی اور ذہنی تھا جبکہ دوسری قسم انسان کے ذہنی، اخلاقی اور روحانی ارتقا سے تعلق رکھتی ہے۔ذہنی ارتقا در اصل انسان کے حواسِ خمسہ کا ارتقا ہے۔اس سورت کی اگلی آیات بعینہ اسی مضمون پر روشنی ڈال رہی ہیں اور ان سوالات کو حل کر رہی ہیں۔پس پہلا سوال قرآن کریم نے وہی اُٹھایا ہے جس پر ابھی گفتگو کی گئی ہے کہ عدل کی وجہ سے ترقی تھی تو اُسے چھوڑنے کے نتیجے میں تنزل ہونا چاہئے۔چنانچہ فرمایا: ثُمَّ رَدَدْنَهُ أَسْفَلَ سَفِلِينَ اس آیت میں اَسْفَلَ سَفِلِينَ سے مراد انتہائی ذلیل حالت ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ انسان کا تنزل جسمانی طور پر اس طرح ہوگا کہ وہ زندگی کی کوئی اور شکل اختیار کر لے یعنی امیبا کی حالت تک یا اس سے بھی کم تر۔تاہم ایسے حالات میں دائمی ترقی کے راستے کی طرف رہنمائی کرنے والی امید کی ایک کرن دکھائی دیتی ہے۔وہ لوگ جو خدا تعالیٰ پر ایمان لائیں گے اور اعمال صالحہ بجالائیں گے انہیں یہ وعدہ دیا