عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 9 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 9

تین بنیادی تخلیقی اصول توازن پیدا کرنے والے قانون کو چلانے والا رہنما اصول: 9 پس انسانی زندگی کی سطح پر عدل کے مضمون میں آزادانہ مرضی کا عنصر داخل ہو جاتا ہے۔اگر انسان خدا تعالیٰ کے دیئے ہوئے اس اختیار کو غلط استعمال کرے اور غلط رستہ اپنالے تو وہ ترقی کی جانب سفر نہیں کر سکتا بلکہ تنزل کی ایسی راہوں پر چل پڑتا ہے جو اسے ادنیٰ سے ادنی ترین حالت کی طرف لوٹا دیتی ہے۔اس ارتقائی عمل کا ذکر مندرجہ ذیل آیات میں ملتا ہے: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ثُمَّ رَدَدْنَهُ أَسْفَلَ سفِلِينَ ) إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ (التین 5:95 تا 7 ) ترجمہ: یقیناً ہم نے انسان کو بہترین ارتقائی حالت میں پیدا کیا۔پھر ہم نے اسے نچلے درجے کی طرف لوٹنے والوں میں سب سے نیچے لوٹا دیا۔سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے پس ان کیلئے غیر منقطع اجر ہے۔د ایک جاری و ساری انعام سے مراد غیر منقطع مسلسل اخلاقی اور روحانی ارتقا ہے۔”قوام“ کا لفظی معنی بھی یہی ہے کہ ادنیٰ حالتیں اعلیٰ حالتوں میں تبدیل ہوتی ہوئی دکھائی دیں اور ایک مسلسل ترقی کا جاری عمل نظر آرہا ہو۔” المنجد میں اس کا معنی تعدیل یعنی عدل کا نفاذ بھی کیا گیا ہے۔یہ آیات قرآنی حیوانی زندگی کے اس ارتقا کا ذکر کر رہی ہیں جس کا نقطۂ عروج انسان ہے نیز یہ آیات انسان کے ذہنی اور اخلاقی ارتقا کا احاطہ بھی کر رہی ہیں۔ادنیٰ درجے کی ذہانت رکھنے والے حیوانات جیسے جیسے ارتقا کا سفر طے کرتے جاتے ہیں، وہ ذہین تر جانوروں کی شکل اختیار کرتے چلے جاتے ہیں۔یقینا خدا تعالیٰ نے عدل ہی کے ذریعے زندگی کی تخلیق کا آغاز کیا ہے اور اسی اصول عدل کے اطلاق کے ذریعہ زندگی کا ارتقا شروع ہوا ہے جو درجہ بدرجہ اپنی آخری منزل تک پہنچا ہے۔پس اس آیت کریمہ نے یہ راز کھولا کہ ارتقائی منازل کے ذریعے بالآخر انسان کی تخلیق کا کرشمه در اصل احسن تقویم کا کرشمہ ہے۔گویا ارتقا کی طرف اُٹھنے والا ہر قدم ایسا اعلیٰ اور موزوں دکھائی دیتا ہے کہ اس سے بہتر ممکن نہ تھا۔امر واقعہ یہ ہے کہ اس قرآنی اصطلاح نے اندھے ارتقا کے نظریہ کو مسترد کر کے رکھ دیا ہے۔انسانی زندگی میں جس چیز کو ہم عدل کہتے ہیں اگر اسے قانون کی صورت میں بغیر اختیار کے مخلوقات میں جاری کیا جائے تو اسے تعدیل“ کہا جائے گا۔پس اللہ تعالیٰ