عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 168 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 168

168 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه سوم -17 اللہ تعالیٰ۔فرشتوں اور صاحب علم بندوں کی گواہی کا نظام سب سے پہلے قرآن کریم خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنی ہستی کی گواہی پیش فرماتا ہے۔خدا ہے یا نہیں ہے؟ یہ وہ بنیادی فیصلہ ہے جس پر مذہب کی بنیاد ہے۔اور اگر خدا ہے تو کس نے دیکھا، اسکی گواہی کس نے دی؟ سب سے پہلے تو خدا کو خود بولنا چاہئے کہ میں ہوں اور اسکی گواہی پیش کرنی چاہئے۔اس پہلو سے بھی آپ حیران ہوں گے کہ دنیا کی اکثر مذہبی کتب میں خدا کی اپنی گواہی واضح طور پر موجود نہیں کہ میں ہوں۔بعض مذہبی کتب میں موجود ہے لیکن اکثر میں نہیں ہے کہ ایک ہستی گواہی دے کہ میں ہوں اور پھر اس کے بعد ایک گواہی کا نظام جاری کرے اور وہ ایسا فصیلی نظام ہو کہ گواہی کے سلسلہ میں کوئی پہلو بھی تشنہ نہ رہے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے۔شَهِدَ اللهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَئِكَةُ وَأُولُوا الْعِلْمِ قَابِمَا بِالْقِسْطِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ( آل عمران 19:3) 66 کہ اللہ گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے۔”وَالْمَلكَةُ “ اور اس گواہی میں اس کے فرشتے بھی شریک ہیں۔" وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَابِما بِالْقِسْطِ “ اور صاحب علم (انسان) بھی اور خدا یہ گواہی انصاف پر قائم ہوتے ہوئے دے رہا ہے۔لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ، اس کے سوا کوئی نہیں جو عبادت کے لائق ہے۔وہی ہے جو غالب ہے اور حکمت والا ہے۔یا غالب علم کا مالک ہے۔پس اللہ تعالیٰ وہ وجود ہے جو بزرگی والا غالب اور علم و حکمت والا ہے۔اس نے یہ گواہی دی ہے۔اب اللہ کی گواہی کو کس نے سنا اور کیسے ہمیں پتہ چلے کہ خدا یہ گواہی دے رہا ہے۔اس کے مختلف پہلو ہیں جن سے ہم اس مضمون کو پرکھ سکتے ہیں۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ کی شہادت جو قرآن کریم میں موجود ہے کیا اس کے مقابل پر غیر اللہ کی شہادت کسی کتاب میں ملتی ہے کہ جسمیں کسی ایسے وجود نے گواہی دی ہو جسے معبود بنایا گیا ہے اور یہ کہا ہو کہ اللہ کے سوا میں بھی ایک معبود ہوں۔ایسی کوئی گواہی کسی کتاب میں نہیں ملتی۔ہاں انسانوں کے دعوے ضرور ملتے ہیں کہ خدا کے سوا کچھ اور بھی معبود ہیں۔پس دنیا بھر میں اللہ کے سوا دیگر معبود تسلیم کئے جانے والوں کی طرف سے ایسی گواہی کا کلی فقدان ایک حیرت انگیز دلیل اللہ تعالیٰ کی گواہی کے حق میں ہے۔پس جب ایک وجود نے آواز دی کہ میں ہوں اور میرے سوا کوئی نہیں تو