عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 167 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 167

مالی لین دین کی شهادت پھر فرمایا: 167 وَإِنْ كُنْتُمُ عَلَى سَفَرٍ وَلَمْ تَجِدُوا كَاتِبًا فَرِهُنَّ مَّقْبُوضَةً ترجمہ: اگر تم سفر پر ہو اور کا تب میسر نہ آئے تو پھر اپنی کوئی چیز رہن با قبضہ کے طور پر رکھواؤ۔فَإِنْ آمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْيُؤَدِ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَهُ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ اور جب امانت کسی کے پاس رکھوائی جائے تو جس کے پاس امانت رکھوائی گئی ہے اس سے جب واپس مانگی جائے تو اس کا فرض ہے کہ تقویٰ کے مطابق اس امانت کو واپس کرے اور اپنے رب اللہ کا خوف کرے۔وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّةَ أَثِمٌ قَلْبُهُ وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ (البقره 284:2) اور گواہی کو مت چھپاؤ۔جو بھی گواہی کو چھپاتا ہے اس کا دل گنہگار ہو جاتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔یہاں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ سفر کے دوران مالی ضرورت پڑنے پر رہن کا مضمون دنیائے مذاہب میں پہلی بار قرآن کریم نے پیش فرمایا ہے۔دیکھا گیا ہے کہ بسا اوقات بعض لوگ اپنے سفر کے دوران قرض مانگنے کے عادی ہوتے ہیں اور بالعموم لوگ انہیں بیچارے مسافر سمجھ کر کچھ نہ کچھ قرض دے بھی دیتے ہیں۔قرآن کریم نے تو چودہ سو سال پہلے ہی آئندہ زمانے کے تمام انسانوں کے حقوق کی حفاظت کا اس حد تک خیال رکھا لیکن افسوس ہے کہ فی زمانہ جبکہ اکثر مسافر کچھ نہ کچھ قیمتی چیز بھی ساتھ رکھتے ہیں جنہیں رہن با قبضہ کے طور پر رکھوانا کچھ مشکل بات نہیں پھر بھی لوگ ان ہدایات کو اہمیت نہ دے کر اپنا نقصان کرواتے ہیں اور معاشرہ میں تلخی کے بیج بو دیتے ہیں۔ایک اور نقصان کا پہلو یہ ہے کہ معاملات میں بے احتیاطی کا رویہ اختیار کرنے کے نتیجہ میں بددیانتی کو فروغ ملتا ہے۔پس ان تفصیلی ہدایات کو تخفیف کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہئے۔مالی امور سے تعلق رکھنے والے یہ دو پہلو چونکہ پہلے زیر بحث نہیں آئے تھے اس لئے ان کے ذکر کے بعد میں اس مضمون کو ختم کرتا ہوں اور اب شہادت سے تعلق رکھنے والے بعض دیگر امور کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔