عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 106 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 106

106 عدل، احسان اور ایتاء ذى القربى - حصه دوم جلتی دیگر آیات کی روشنی میں اس آیت کا مطالعہ کرے اور پھر ایک ایسا نتیجہ نکالے جوان آیات کے معافی سے ہم آہنگ ہو۔مضمون میں لچک کے اعتبار سے یہ آپ بغیر کوئی اندرونی تضاد پیدا کئے عمومی طور پر کئی قسم کے مختلف حالات پر چسپاں ہوتی ہے۔اس کی صحیح تفاسیر میں کوئی باہمی تضاد نہیں ہوسکتا نہ ہی اس مضمون سے متعلق دیگر آیات سے یہ متصادم ہو سکتی ہیں۔لیکن اس نکتے کو پوری طرح سمجھنے کیلئے اس آیت کا مختلف زاویہ ہائے نگاہ سے تفصیلی مطالعہ ضروری ہے۔اولاً، جب ہم اس کا اطلاق زمانہ قبل از اسلام پر کرتے ہیں تو یہ آیت اس امر کی ایک بہترین مثال ہے کہ کس طرح قرآن کریم دیگر تمام مذاہب کے ساتھ ایسے کامل عدل کا معاملہ کرتا ہے جس کی نظیر کسی دوسری آسمانی کتاب میں نہیں پائی جاتی۔یہ آیت نزول قرآن سے قبل ہر زمانے کے لوگوں کو وعدہ دیتی ہے کہ قطع نظر اس کے کہ ان کا مذہب کیا ہے یا اسے کس نام سے موسوم کیا جاتا ہے، جب تک وہ اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھیں گے اور اپنی مذہبی تعلیمات کے عین مطابق نیک اعمال بجالائیں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں امن و سلامتی اور نجات کی ضمانت دیتا اور یہ وعدہ کرتا ہے کہ نہ تو انہیں کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔چنانچہ جہاں تک گزشتہ مذاہب کا تعلق ہے تو ان سے وابستہ تمام لوگوں کو یہ آیت نجات کی بشارت دے رہی ہے بشرطیکہ وہ پورے اخلاص کے ساتھ اپنی مذہبی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں اور جزا سزا کے دن کے اٹل ہونے پر یقین رکھیں۔اس آیت کے دوسرے پہلو کا اطلاق ان تمام لوگوں پر ہوتا ہے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تو پایالیکن ان تک اسلام کا پیغام نہیں پہنچا۔اس لحاظ سے انہیں بھی پہلے ادوار کے لوگوں کے زمرے میں ہی شمار کیا جائے گا۔ان کیلئے پیغام یہ ہے کہ: تمام بنی نوع انسان جو دنیا کے کسی بھی گوشے میں بستے ہیں یہ یقین رکھیں کہ جب تک اسلام کا پیغام ان تک پہنچ نہیں جاتا یا ایسے طریق پر نہیں پہنچتا کہ ان کیلئے اسے رد کر دینے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے، تو اللہ تعالیٰ ان سے کسی قسم کی کوئی نا انصافی نہیں کرے گا۔ان کے بارے میں کیا جانے والا فیصلہ انہی کے مذہب کے مطابق ہوگا جیسا کہ سورۃ البقرۃ میں فرماتا ہے: لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة 2: 287) ترجمہ: اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔یعنی وہ انہیں بچائے گا اور ان کا فیصلہ ان کے مذہب کے مطابق ہی کیا جائے گا۔