عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 105 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 105

مذہب میں آزادئ ضمیر -10 مذہب میں آزادی ضمیر 105 قرآن کریم کی ایک آیت مذکورہ بالا اصولوں کے حوالے سے ایک بالکل نیا پہلو بیان کرتی ہے جس کے مطابق انسان کے مذہب سے متعلقہ جملہ معاملات بھی انہی اصولوں کے تابع ہیں اور یہ کسی ایک دور کے انسان کے مذہب تک محدود نہیں بلکہ در حقیقت یہ اصول ہر دور کے انسان سے انفرادی اور اجتماعی طور پر تعلق رکھتے ہیں۔آیت یہ ہے: إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَ الَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصْرِى وَالطَّبِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة 63:2) ترجمہ: یقینا وہ لوگ جو ایمان لائے اور وہ جو یہودی ہیں اور نصاری اور دیگر الہی کتب کے ماننے والے جو بھی اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے ان سب کیلئے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غم کریں گے۔مسلمان مفسرین نے اس آیت کی مختلف تفاسیر پیش کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کے مضمون کو پوری طرح سمجھ نہیں پائے جبکہ غیر مسلم مفسرین نے اس کے سیاق و سباق کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کی ایسی تفاسیر کی ہیں جن کا رویہ زیادہ تر متعصبانہ اور معاندانہ ہے۔ان میں سے بعض تو تکبر میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اس آیت کو اپنی منفی تنقید کا بطور خاص نشانہ بنایا ہے۔ان کے نزدیک یہ بنی نوع انسان کو اس فرض سے کلیہ آزاد کرتی ہے کہ وہ اسلام قبول کریں۔ان کی تفسیر کے مطابق نجات کے لئے صرف اللہ اور یوم آخرت پر ایمان اور نیک اعمال بجالانا کافی ہے قطع نظر اس کے کہ آپ یہودی ہیں ، عیسائی ہیں یا صابی۔صابی سے وہ شخص مراد ہے جو خدا تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہو اور دنیا میں کسی بھی جگہ نازل ہونے والی کسی بھی الہامی کتاب کا پیرو ہو۔بالفاظ دیگر وہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ اس آیت کے مطابق بنی نوع انسان کی نجات کیلئے اسلام کو مانا ہر گز ضروری نہیں بلکہ کسی بھی مذہب کی پیروی کر کے انسان کو نجات مل سکتی ہے۔لیکن وہ اس بات کو قطعی طور پر نہیں سمجھ پائے کہ یہ آیت ایک وسیع اور بہت گہرے مضمون پر مشتمل ہے جس کا اطلاق ساری دنیا پر یکساں ہوتا ہے۔اس کے معانی کو سمجھنے کیلئے قاری کو چاہئے کہ قرآن کریم کی اس سے ملتی