عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 107 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 107

مذہب میں آزادئ ضمیر 107 اسی طرح اس آیت میں وہ لوگ بھی مخاطب ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم عصر لیکن دیگر مذاہب کے پیروکار تھے۔اگر وہ اپنے اصولوں پر پورے صدق وصفا کے ساتھ کار بند اور اپنے اپنے ایمان اور نیک اعمال پر ثابت قدم تھے تو یہ آیت انہیں بشارت دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اجر ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔اس اعتبار سے جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے، اعمالِ صالحہ کی جزا دو طرح پر دی جاتی ہے۔ایک تو اسی دنیا میں اور دوسری موت کے بعد کی زندگی میں۔جہاں تک اول الذکر کا تعلق ہے اس سے مراد یہ ہے کہ جیسے ہی ان تک اسلام کا پیغام پہنچتا ہے تو ان کے نیک اعمال اور مخلصانہ ایمان کے نتیجہ میں ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اسے قبول کر لیں گے۔فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ “ میں ” أَجْرُ “ کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ اعمال صالحہ کی وجہ سے ان کی رہنمائی اسلام کی طرف کی جاتی ہے۔اس معنی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری تائید حاصل ہے۔چنانچہ حضرت حکیم بن حزام بیان کرتے ہیں کہ : قبول اسلام سے قبل میں بہت سے اچھے کام کیا کرتا تھا۔مثلاً غریب پروری، بھوکوں کو کھانا کھلانا اور مصیبت زدگان کی مدد کرنا وغیرہ۔مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد ایک مرتبہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم)! مسلمان ہونے سے پہلے میں نے جو نیک عمل کئے ہیں ان کا کیا ہوگا؟ کیا ان کا اجر مجھے ملے گا؟ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اسلام قبول کر لینا انہی کا تو اجر ہے۔تمہارے نیک اعمال یقینا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالئے ہیں“۔(12) آزادی ضمیر کے ایک پہلو کا جائزہ لینے کے بعد اب ہم اس کے ایک دوسرے پہلو کی طرف آتے ہیں جس کا تعلق جبراً مذہب تبدیل کرنے کی مناہی سے ہے۔قرآن کریم وہ واحد کتاب ہے جو دین کے معاملے میں مکمل اور غیر مشروط آزادی ضمیر کی علمبردار ہے۔قرآن کریم غیر مذہبی لوگوں کی طرف سے مذہب پر لگائے جانے والے اس غلط الزام کی سختی سے تردید کرتا ہے کہ مذاہب جبر کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔چنانچہ فرماتا ہے: لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرُ