عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 63 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 63

انسانی جسم کا اندرونی توازن 63 انسان کی بے اعتدالیاں: اگر انسان کو کھلی چھٹی دے دی جائے تو وہ تمام حدود سے تجاوز کر جاتا ہے۔لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا احسان ہے کہ جسم کے اندر موجود عظیم کارخانہ کے چلانے میں انسان کا اختیار بہت کم ہے۔وہ نہیں جانتا کہ اس کے اپنے جسم کے اندر کیا کچھ ہورہا ہے اور نہ ہی وہ اپنے اندرونی نظام میں دخل دے سکتا ہے۔زندگی کے لاتعداد افعال انسان کے کسی شعوری عمل کے بغیر ہی جاری وساری ہیں۔یقیناً بعض صورتوں میں انسان کو اختیار دیا گیا ہے۔مثال کے طور پر کھانے پینے میں اسراف، شہوانی لذات میں محو ہو جانا، طرز زندگی کا پر تعیش ہونا اور بعض دیگر عادات ہیں جن میں انسان کو اپنی مرضی کا اختیار دیا گیا ہے۔چنانچہ انسان ان معاملات میں جو بگاڑ پیدا کرتا ہے اس سے ہم بخوبی واقف ہیں۔وہ اپنے خلاف جو بھی زیادتیاں کرتا ہے، ان کے بدنتائج سے محفوظ رکھنے کیلئے بھی اس کے اندر ایک باقاعدہ نظام جاری کیا گیا ہے۔یہ نظام اسے اس کی بہت سی بے اعتدالیوں اور زیادتیوں کے نتائج سے بڑی حد تک بچاتا ہے۔لیکن اگر انسان مسلسل غلطیاں کرتا چلا جائے یا تمام حدود سے تجاوز کرتے ہوئے خود کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں ڈال لے تب سزا کا نظام ضرور حرکت میں آتا ہے۔اس کے باوجود صحت اور بیماری، زندگی اور موت کے درمیان ایک طویل کشمکش جاری رہتی ہے اور قدرت ایسا ہر ممکن انتظام کرتی ہے کہ تخریبی قوتوں کے خلاف یہ جدو جہد طویل عرصہ تک جاری رہ سکے۔مذہبی اصطلاح میں ہم جسے بداخلاقی یا سرکشی کہتے ہیں ہمارے نزدیک اس کا اطلاق در حقیقت مادی دنیا پر بھی ہوتا ہے۔بے شک ہمارا مقصد یہ نہیں کہ مادی اور روحانی امور کے سلسلہ میں ایک جیسی اصطلاحات کا استعمال کیا جائے لیکن ان کی باہمی مشابہتیں اتنی قوی ہیں کہ انسان کی توجہ خود بخود ان کی طرف مبذول ہو جاتی ہے۔تاہم یہ بات ہر گز نہیں بھولنی چاہئے کہ ایسے انتہائی نازک مواقع پر بھی اللہ تعالیٰ کا احسانِ عظیم اور اس کی بے پایاں رحمت ہی ہے جو انسان کو بچاسکتی ہے۔