عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 62
62 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول کہ وہ اپنے آقا کی جگہ تخت پر بیٹھ جائیں اور آقاان کی غلامی اختیار کرلے۔جولیس سیزر اس کی ایک مثال ہے جو ایک مرتبہ بڑی شاندار اور بارعب تقریر کر رہا تھا کہ اچانک اس پر مرگی کا حملہ ہوا اور وہ تکلیف کے باعث تڑپنے لگا۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے شیکسپر لکھتا ہے: ” جب اُسے دورہ پڑا تو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، کہ وہ دیوتا کیسے تڑپتا تھا، اس کے ہونٹ جو اظہار حق کی جرات نہیں رکھتے تھے، کیسے پھیکے پڑ چکے تھے، اور وہی آنکھ جس کے اشارہ سے ایک دنیا کا نپتی تھی ، اُجڑ چکی تھی ، اب کس قدر ویران تھی۔“ (Julius Ceaser Act 1 Scene II) لیکن اس قسم کے واقعات انسان کی انانیت پر کوئی اثر نہیں ڈالتے کیونکہ جیسے ہی وہ صحت کی طرف لوٹتا ہے تو ذلت اور بے بسی کے ان لمحات کو یکسر بھول کر فورا ہی اپنی جھوٹی انا کا لبادہ دوبارہ اوڑھ لیتا ہے حالانکہ اگر آپ غور کریں تو مرگی، جو انسان سے اس کا وقار چھین سکتی ہے، درحقیقت اعصابی نظام کے ایک بالکل معمولی عدم توازن کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔یہاں تک کہ اکثر اوقات یقین کرنا بھی ناممکن ہوتا ہے کہ اعصابی نظام کا کون سا حصہ بیمار ہے۔- حفاظت پر مامور فرشتے: ترقی کی راہوں پر انسان کیلئے جابجا خطرات موجود ہیں۔ترقی کی جانب اٹھنے والا ہر غیر محتاط قدم تباہی کی طرف لے جاسکتا ہے۔زندگی اور موت کا عمل بار یک تفاصیل میں جا کر بھی دیکھیں تو ساتھ ساتھ چلتا ہے۔زندگی کی حفاظت کرنے والا نظام اس قدر گہرا اور اعلیٰ ہے کہ اسے ابھی تک پوری طرح سمجھا ہی نہیں جاسکا لیکن جو کچھ بھی سمجھ میں آچکا ہے اسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔مذہبی نقطہ نظر کے مطابق ، بظاہر اس خود کار نظام کے پیچھے، ایسی غیر مرئی شعوری طاقتیں کارفرما ہیں جن کی جہات ہم سے مختلف ہیں اور جنہیں فرشتے کہا جاتا ہے۔یہ سارا نظام کا ئنات ایسے قوانین قدرت کے ذریعے چلایا جا رہا ہے جن کا قیام اور نفاذ بار یک دربار یک تفاصیل میں بھی فرشتوں کے ذریعے ہوتا ہے۔یہاں بھی اسی کا اطلاق ہوتا ہے۔مثلاً ترقی کی جانب بڑھتی ہوئی زندگی کی ہرا کائی کیلئے ہر قدم پر یہ خطرہ موجود ہے کہ اس کا ایک غلط قدم اسے موت کے منہ میں دھکیل سکتا ہے۔لیکن زندگی کی حفاظت پر مامور فرشتے ہر قدم پر اس کی صحیح رہنمائی کر رہے ہوتے ہیں۔ہاں جب موت کے وقت کا فیصلہ ہو جاتا ہے تو زندگی کا ہر قدم موت کی جانب اٹھنے لگتا ہے۔