عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 49
انسانی جسم کا اندرونی توازن 49 اس کا ایک برعکس نظام بھی جاری وساری ہے جو اس کی آخری فنا کیلئے اپنا معین کام کرتارہتا ہے۔پس ہر چیز کمال درجہ پر متوازن اور متناسب ہے۔انسانی جسم کے ہر خلیہ کی زندگی کی میعاد پہلے سے طے ہے اور جینز پر نمایاں (Dominant) اور خوابیدہ (Recessive) صفات کے پیچیدہ نقوش کی صورت میں ثبت ہے۔یہ بھی واضح طور پر پہلے سے ہی طے ہے کہ کسی بھی عضو کی نشو ونما کی رفتار اس کی موت کی رفتار سے کب تک زیادہ رہے گی؟ نیز یہ بھی کہ نشو و نما کی رفتار اور موت کی رفتار کب تک یکساں رہے گی اور کب مؤخر الذکر رفتار بڑھ جائے گی اور فتنا کا عمل بقا کے سلسلہ پر غالب آجائے گا ؟ پس اس سارے عمل میں کچھ بھی اتفاقی یا حادثاتی نہیں ہے۔جسمانی نشو ونما: وضاحت کیلئے ایک سادہ سی مثال یعنی دانت کی نشو و نما کا مطالعہ کرتے ہیں۔ہمارا اندورونی نظام دودھ کے دانتوں کی نشوونما کی رفتار اور ان کے خراب ہو جانے کی رفتار کی مسلسل نگرانی کرتا ہے نیز اسے ایک مناسب حد میں رکھتا ہے۔چنانچہ چند سالوں تک نشو و نما کی رفتار، شکست وریخت کی رفتار سے زیادہ رہتی ہے۔اس سے اگلے مرحلے پر ان دونوں کی رفتار کچھ عرصہ تک یکساں رہتی ہے جس کے بعد شکست وریخت کی رفتار بڑھ جاتی ہے اور دودھ کے دانتوں کے دن پورے ہو جاتے ہیں جس کے بعد بلوغت کے دانتوں کی افزائش کا دور شروع ہوتا ہے۔اس دور کے آغاز میں افزائش کی رفتار شکست وریخت کی رفتار سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔مقررہ لمبائی، چوڑائی اور موٹائی حاصل کر لینے تک ان کی نشو ونما کی رفتار زیادہ ہی رہتی ہے لیکن اس کے بعد نشو ونما اور شکست و ریخت کی رفتار باہم بالکل یکساں اور متوازی ہو جاتی ہے اور سوائے اس کے کہ دانت کسی بیماری کی وجہ سے یا حادثہ کی بناء پر خراب ہو جائیں وہ بالکل صحت مند رہتے ہیں اور بظاہر ان کے حجم وغیرہ میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔لوگ عموماً یہی سمجھتے ہیں کہ دانتوں کی نشو ونما مکمل ہوئی اور اب یہ بڑھنا بند ہوگئے ہیں حالانکہ یہ معصومانہ سا خیال حقیقت سے بہت دور ہے۔کیونکہ اگر دانتوں کی افزائش کا عمل رک جائے تو چند ہفتوں یا مہینوں کے اندر اندر سارے دانت گھس جائیں اور ان کا کچھ بھی باقی نہ بچے اس کے برعکس اگر دانتوں کی نشو و نما کی ابتدائی رفتار برقرار رہے تو یہ بڑھتے بڑھتے اس قدر لمبے ہوجائیں کہ نچلے دانت کھوپڑی کو پھاڑ کر اوپر نکل جائیں اور بالائی دانت جبڑے سے نیچے لٹکتے ہوئے دکھائی دینے لگیں۔الغرض یہ کوئی بے ہنگم سلسلہ نہیں بلکہ ایک با قاعدہ نظام کے تابع ہے۔ایک مقررہ مدت تک شرح افزائش کو برقرار رکھنے اور پھر بر وقت اس میں تبدیلی پیدا کرنے کے تمام عوامل طبعی طور پر