عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 50
50 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول متوازن ہیں اور یہ سب کچھ انسانی تخلیق کے بنیادی ڈھانچے پر معین اور واضح رنگ میں لکھا ہوا موجود ہے۔یہ دیکھ کر دماغ چکرا جاتا ہے کہ انسانی جسم کی ساخت کا تمام تر منصو بہ کس طرح اپنے وقت پر بار یک در بار یک تفاصیل کے ساتھ عملی رنگ میں ظاہر ہوتا چلا جاتا ہے۔انسانی جسم سے غیر ضروری مادوں کے اخراج کا نظام بھی اپنی ذات میں ایک مکمل نظام ہے۔یقیناً یہاں بھی اصول عدل کا رفرما ہے جبکہ انسان کو اس کا کچھ بھی علم نہیں جسے قدرت نے غذا کے مفید حصہ کو ہضم کرنے کے بعد زہریلے مادوں کو باہر نکالنے کا یہ شاندار نظام عطا کر رکھا ہے۔ایک انسان اپنے دانتوں کے ساتھ نا انصافی کرتا ہے اور نتیجہ انہیں خراب کر لیتا یا کھو دیتا ہے تب اسے اپنی حماقت کا احساس ہوتا ہے کیونکہ کھانے میں بے اعتدالی اور اسراف نہ صرف دانتوں بلکہ نظام انہضام اور نظام اخراج دونوں کیلئے بیک وقت نقصان دہ ہوتا ہے اور ذیا بیطیس کی بعض اقسام کی وجہ بنتا ہے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسان کو غذا کی ان بے اعتدالیوں سے نمٹنے کیلئے کئی ایک دفاعی نظام بھی عطا کئے گئے ہیں۔بات کو مزید کھولنے کیلئے ہم ذیا بیطس کی مثال پر مزید غور کرتے ہیں۔ذیا بیطس ایک عام سی بیماری ہے لیکن دراصل یہ محض ایک بیماری نہیں بلکہ اب تک اس کی سینکڑوں اقسام دریافت کی جاچکی ہیں اور ان میں سے تقریباً ہر ایک کے خلاف جسم کو اندرونی دفاعی قو تیں بھی دی گئی ہیں۔اس کی بعض اقسام غدودوں مثلاً لبلبہ کی خرابی سے پیدا ہوتی ہیں۔لبلبہ دو قسم کی رطوبتیں پیدا کرتا ہے جن میں سے ایک انسولین کہلاتی ہے۔انسانی جسم کے تمام خلیات کو اپنی بقا کیلئے مسلسل توانائی کی ضرورت رہتی ہے۔انسولین کا کام شکر کو ہضم کر کے یہ توانائی ان خلیات تک پہنچانا ہے۔اگر انسان شکر نہ بھی کھائے تو جو نشاستہ دار غذائیں وہ مختلف شکلوں میں استعمال کر رہا ہوتا ہے وہ شکر میں تبدیل ہوتی جاتی ہیں اور اگر انسولین ضرورت سے زیادہ مقدار میں پیدا ہونی شروع ہو جائے تو وہ ہائپوگلیسمیا (HYPOGLYCAEMIA) نامی بیماری کا باعث بنتی ہے جس کی وجہ سے جسم میں شکر کی مقدار اچانک انتہائی خطرناک حد تک گر جاتی ہے اور فوری طبی امداد نہ ملنے کی صورت میں اچانک موت واقع ہو سکتی ہے یا پھر گہری بے ہوشی کی وجہ سے دماغ کے خلیات اور دیگر اعضائے رئیسہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔جسم میں انسولین کی پیداوار کو کنٹرول کرنے کیلئے ایک پیچیدہ اطلاعی نظام کام کر رہا ہے جو گویا ایک الارم بجا کر جسم کو یہ بتا دیتا ہے کہ جس قدر انسولین چاہئے تھی وہ پیدا ہو چکی ہے اب مزید کی