عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 45
انسانی ارتقا کا اگلا قدم 45 کے عجائبات سے آگاہ ہونے سے بہت پہلے حضرت اقدس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم کے ذریعے یہ علم عطا فر ما دیا تھا۔پس قرآن کریم کے اس بیان کی موزونیت اور جامعیت کو دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُس نے تمہیں پیدا کیا، پھر تمہاری تکمیل کی اور پھر عدل کی تمام شرائط ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تمہیں سنوارا اور کئی کامل متوازن صورتوں میں ڈھالا (الانفطار 7:82 تا9) اُس زمانے کا انسان یہ دیکھ کر حیران ہوا ہوگا کہ قرآن کریم نے بنی نوع انسان کی تخلیق اور بناوٹ میں توازن کے مضمون کو بیان کرنے کیلئے عدلگ“ کا لفظ ہی کیوں استعمال فرمایا ؟ اس سے پہلے کسی بھی فلسفے یا مذہبی کتاب میں تخلیق انسانی کا مضمون اتنی وضاحت کے ساتھ بیان نہیں ہوا۔66 توازن اور آگہی : یہ امر قابل ذکر ہے کہ قرآن کریم نے مختلف مقامات پر جو اصطلاحات استعمال فرمائی ہیں ان میں بہت لطیف ربط پایا جاتا ہے۔مثلاً تمام ارضی اجسام میں توازن کار فرما دکھائی دیتا ہے جبکہ انسانوں میں جاری اصول کو بیان کرنے کیلئے عدل کا لفظ استعمال ہوا ہے لیکن اس سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ انسان ” موزون نہیں ہے۔عدل موزون اور میزان دونوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے نیز اس میں توازن اور انصاف کے متعلق شعوری احساس کا مفہوم بھی شامل ہے۔پس عدل تو ازن کی ایک بہت بلند منزل کی نشان دہی کرتا ہے جس میں شعور کا عنصر بھی شامل ہو گیا ہے۔قرآن کریم کے مطابق انسان کو عدل کے اصول پر تخلیق کیا گیا ہے جس کی رو سے وہ عظیم الشان الہی نظام عدل میں بلندترین مرتبہ پر فائز ہے اور دیگر تمام مخلوقات سے افضل اور اشرف ہے۔ابتدائے آفرینش سے ہی عدل نے قوانین قدرت کی شکل میں ایک لاشعوری کردار ادا کیا ہے۔بعد ازاں جب کائنات کا ارتقا آغاز حیات کے مرحلے تک آن پہنچا تو عدل کا یہ لاشعوری عمل، متوازن طرز عمل کی ایک وجدانی شکل میں تبدیل ہو گیا۔نیز تخلیقی اصول جو تمام ارتقائی مراحل میں کارفرما ہوتے ہیں مکمل لاشعوری عمل یا توازن کے وجدانی عمل کے تابع ہیں۔جیسا کہ قبل از میں بیان کیا جا چکا ہے کہ شعور کی تیسری منزل تک صرف انسان ہی پہنچتا ہے۔اربوں سال پر محیط ارتقا کے دوران، زندگی کی آگہی کی سطح بتدریج بلند ہوتی چلی گئی۔اس تمام سفر کا مقصد شعوری عدل کی آخری منزل کا حصول ہی تھا جو کہ انسانی ذہن اور روح کی مزید ترقی کیلئے اور آئندہ ایک نامعلوم، اعلیٰ اور لطیف زندگی کیلئے بہت ضروری ہے۔ترقی کی اس سیڑھی کا ہر زینہ عدل ہی کا مرہون منت ہے۔چنانچہ عدل کے ایک درجے سے دوسرے درجے کی طرف بڑھے بغیر