عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 183 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 183

کائنات میں۔خدا کا ریکارڈ نگ سسٹم 19- کائنات میں خدا کا ریکارڈنگ سسٹم 183 اب جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ انسان کے جو اعمال قیامت کے دن پیش ہونگے ان پر فرشتوں کی اور خدا کی گواہی کی کیا حیثیت ہوگی۔اس پہلو سے بھی آپ دیگر مذاہب کا مطالعہ کریں تو یہ بات محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکیں گے کہ اسلامی تعلیم عدل جن جن شعبوں پر اور جس تفصیل سے حاوی ہے اس کا پاسنگ بھی ان مذاہب میں موجود نہیں ہے۔قرآن کریم یہ نہیں فرماتا کہ تم اس لئے پکڑے جاؤ گے کہ میرے فرشتے گواہی دیں گے کہ تم بدی کیا کرتے تھے۔اگر ایسا کیا جائے تو انسان کہہ سکتا ہے کہ فرشتوں کی مخلوق اور ہے۔وہ نہ ہمارے جذبات سے واقف اور نہ ہمارے اندرونی حالات سے واقف ہیں۔چنانچہ واقعہ قریب کے زمانہ میں ایک اردو شاعر نے یہی اعتراض اٹھا بھی دیا۔غالب کہتا ہے۔پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا که خدایا! تیری گواہی کا نظام عجیب ہے کہ فرشتوں کے لکھے پر ناحق بندوں کو پکڑ رہا ہے۔کیا بنی آدم کا کوئی نمائندہ بھی وہاں بطور گواہ موجود تھا۔اللہ تعالیٰ کا غالب کو زبان حال سے یہ جواب ہوگا کہ کسی آدمی کا تمہارے خلاف پیش ہونا تو درکنار، خودتم ہی اپنے خلاف گواہ پیش ہو گے۔چنانچہ قرآن کریم میں ہر انسان کی جلد کی گواہی، اس کے جسم کی گواہی ، اس کے باطن کی گواہی کا ذکر ہے۔یہ ایک بہت گہرا مضمون ہے جس کی تفصیل میں اس وقت بیان نہیں کرتا۔ہاں صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ ہر انسان کی اپنی گواہی خدا اور فرشتوں کی گواہی کی تائید کر رہی ہوگی۔چنانچہ قرآن کہتا ہے کہ فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مَا فِيهِ وَ يَقُولُونَ يُوَيْلَتَنَا مَالِ هَذَا الْكِتَبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصُهَا (الكهف 50:18) اُس دن مجرم ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے افسوس ہم پر اس کتاب کو کیا ہوا ہے کہ نہ یہ کوئی چھوٹی چیز چھوڑتی ہے اور نہ کوئی بڑی چیز مگر اس نے ان سب کو شمار کر لیا ہے۔اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے ہم نے یہ نظام قائم فرما دیا ہے کہ اس کا ئنات میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس سب کو