عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 156 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 156

156 عدل، احسان اور ایتاء ذى القربى - حصه دوم ایک سفر کے دوران کسی جگہ پر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم سفر صحابہ نے پڑاؤ کیا تو کسی مسلمان کے ہتھیار چوری ہو گئے۔بات آگے بڑھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے کیمپ کی تلاشی کا حکم دے دیا۔چوری کا ارتکاب تو در حقیقت کسی مسلمان نے ہی کیا تھا لیکن جب تلاشی شروع ہوئی تو اس نے چالا کی سے وہ ہتھیار ایک یہودی کے سامان کے ساتھ رکھ دیئے اور وہیں سے ہتھیار برآمد ہوئے جس کے نتیجے میں قریب تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس یہودی کو سزا سناتے کہ یہ آیت نازل ہوئی: إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَيكَ الله وَلَا تَكُن لِلْخَاسِنِينَ خَصِيْمًا (النساء 4: 106) ترجمہ: ہم نے یقیناً تیری طرف کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا ہے تا کہ تو لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرے جو اللہ نے تجھے سمجھایا ہے اور خیانت کرنے والوں کے حق میں بحث کرنے والا نہ بن۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وحی الہی سے فورا بھانپ لیا کہ اگر چہ بظاہر یہودی ہی مجرم دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت کچھ اور ہی ہے۔یعنی اس جرم کا مرتکب کوئی یہودی نہیں بلکہ مسلمان ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید تحقیقات کا حکم دیا جس کے نتیجے میں اصل مجرم پکڑا گیا۔اس آیت سے واضح ہے کہ شہادت کے اسلامی اصول کے مطابق نہ تو اس بات کی کوئی اہمیت ہے کہ گواہ کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے اور نہ ہی اس بات کی کہ نتیجے کا خمیازہ کسی مسلمان کو بھگتنا پڑتا ہے یا غیر مسلم کو۔افسوس صد افسوس! کہ عصر حاضر کے مسلم علماء عدل کی راہ سے کس قدر دور جا پڑے ہیں۔اور جہاں تک شہادت کے معاملے میں انصاف کا تعلق ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول و فعل ہمیشہ سیکولر اور غیر جانبدارانہ رہا ہے۔یہ تو بعد کے علمانے اپنی فطرتی کجی کے باعث اسلامی تعلیمات میں بھی بگاڑ پیدا کرنے کی مذموم کوشش کی ہے۔چنانچہ میں نہ صرف احمد یوں بلکہ مسلمانانِ عالم کو دعوت دیتا ہوں کہ اسلام اور اس کے مقدس آقاصلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تعلیمات پر حملہ آور ہونے والی ہر نا پاک کوشش کے خلاف جہاد کیلئے اٹھ کھڑے ہوں اور اس راہ میں اپنی جان مال اور عزت و آبر و غرض کسی بھی چیز کی پرواہ نہ کریں۔یاد رکھو کہ آج صرف دشمن ہی اسلام پر بڑھ بڑھ کر حملے نہیں کر رہا بلکہ ظلم کی حد تو یہ ہے کہ نام نہاد مسلمان