عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 155
مسلمانوں اور غیر مسلموں کی ایک دوسرے کے خلاف شهادت 155 کیا کہ وہ جھوٹی قسم اٹھا لیں گے۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی طرف سے اٹھائے جانے والے اس اعتراض پر خفگی کا اظہار فرمایا اور یہود سے حلف نامہ لے کر تفتیش کا سلسلہ وہیں روک دیا۔لیکن مقتول کے ورثاء چونکہ خون بہا کے حقدار تھے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قومی مال میں سے انہیں رقم ادا کر دی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عدل کے ساتھ ایک طبعی وابستگی رکھتے تھے اور یہ واقعہ اس کی ایک زندہ مثال ہے۔تا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ چونکہ اُن شواہد کی بنا پر کیا تھا جو مہیا ہو سکے تھے اس لئے امکان ضرور موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ محض قانونی طور پر ہی درست ہو۔عین ممکن ہے کہ کوئی چرب زبان شخص اپنا موقف اپنے مؤثر انداز میں پیش کرے کہ باوجود انصاف کے تمام تقاضے پورے کرنے کے قاضی کسی غلط نتیجے پر جا پہنچے۔اندر میں صورت انصاف کا خون کرنے کی ذمہ داری بددیانت وکیل پر ہوگی نہ کہ قاضی پر۔چنانچہ اسی امکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَّ إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَ لَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ اَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضِ فَاقْضِيَ عَلَى نَحْوِمَا أَسْمَعُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ اَخِيْهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذُهُ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِّنَ النَّارِ۔ترجمہ: میں بھی انسان ہوں اور تم میرے پاس جھگڑا لے کر آتے ہو۔ممکن ہے کہ کوئی آدمی تم میں سے دوسرے کی نسبت زیادہ عمدہ انداز میں اپنی بات کو پیش کر سکتا ہو۔پس اگر میں اس کی باتوں سے متاثر ہو کر اس کے حق میں فیصلہ کر دوں اور اس کے بھائی کے حق میں سے اسے کچھ دلا دوں تو اسے یہ نہیں لینا (41) چاہئے کیونکہ اس کے لئے وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے جو میں اسے دلا رہا ہوں۔( قابل ذکر امر یہ ہے کہ مضبوط وکالت اور مہیا کردہ شواہد کی بنا پر اگر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی جھوٹے کے حق میں فیصلہ کروایا جا سکتا ہے تو ایسی صورت میں غلط فیصلہ کی تمام تر ذمہ داری غلط فیصلہ کروانے والے پر ہوگی کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ غاصب کون ہے۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے متنبہ فرمایا ہے کہ اگر غصب کردہ جائداد اس کے حقیقی مالک کو نہ لوٹائی گئی تو با وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے غاصب اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہو گا۔مندرجہ ذیل واقعہ اس امر کی مزید تائید کرتا ہے: