عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 157 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 157

مسلمانوں اور غیر مسلموں كى ايك دوسرے کے خلاف شهادت 157 علماء بھی اسلام کی پیٹھ میں چھرا گھونپ رہے ہیں۔پس ہمیں اپنے مقدس آقاصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلائے جانے والے ہر ایک تیر کو بڑی جرات سے اپنے سینوں پر لینا ہوگا کیونکہ راہ مولیٰ میں جان دینے سے افضل کوئی موت نہیں ہو سکتی۔آخر میں میں آپ سے دعا کی درخواست کرتا ہوں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر بہت بڑا فضل، احسان اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے ہر ایک شر اور بدنظمی سے ہمیں بچایا اور اس قدر پر سکون روحانی فضا میں اپنی تائید و نصرت کے نظارے دکھائے۔دنیا کے کونے کونے سے عاشقانِ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم یہاں جمع ہوئے ہیں۔جب وہ یہاں آنے کیلئے سفر کر رہے تھے تو بھی ان کے دل اللہ تعالیٰ کی حمد کے گیت گاتے رہے اور اب جبکہ وہ اپنے اپنے گھروں کو واپس جانے والے ہیں تو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے گیت گاتے ہوئے جائیں۔آپ لوگوں کی جدائی کا سوچ کر میرا دل بھر آ گیا ہے۔میری دعا ہے کہ اس سفر میں اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔غالب کی زبان میں ہیں آپ سے یہ کہتا ہوں کہ : وداع و وصل جداگان لذتی دارد ہزار بار برو صد ہزار بار بیا یعنی ہجر اور وصال دونوں کا اپنا اپنا لطف ہے لیکن شاعر اپنے محبوب سے التجا کرتا ہے کہ تم مجھے سے ہزار بار جدا ہو جاؤ لیکن سو ہزار مرتبہ لوٹ کر واپس آؤ۔اسی طرح میں اپنے پیارے احمدیوں سے یہ کہتا ہوں کہ انہیں ہزار مرتبہ جدا ہونا ہے لیکن صرف اس لئے کہ دس ہزار بارلوٹ کر آنا ہے۔اللہ کرے کہ ہم خدا تعالیٰ کے نام کی بلندی کی خاطر ہمیشہ یہاں اکٹھے ہوتے رہیں اور ہمیشہ اس کی محبت کے چراغ روشن کرتے چلے جائیں اور ہمیشہ اسی طرح حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام پڑھتے رہیں اور اللہ کرے کہ پیار محبت کی یہ فضا ہمیشہ بڑھتی اور پھلتی پھولتی رہے اور کل عالم کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔( آمین ثم آمین )