عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 154
154 عدل، احسان اور ایتاء ذى القربى - حصه دوم حضرت اشعث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک قطعہ اراضی پر میرا ایک یہودی کے ساتھ تنازعہ تھا۔ہمارا مقدمہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش ہوا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے جگہ کی ملکیت کا ثبوت مانگا لیکن میرے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا۔تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کو مخاطب کر کے فرمایا: ” تم چونکہ مدعا علیہ ہو اس لئے تمہیں حلف دینا ہو گا۔کیا تم حلفاً کہ سکتے ہو کہ یہ زمین تمہاری ملکیت ہے؟‘اشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے احتجاجا عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو یہودی ہے اور جھوٹی قسم اٹھا کر میری جائداد پر قبضہ کر لے گا۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” لیکن اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی تو نہیں۔میرا فیصلہ تو انصاف پر ہی مبنی ہوگا۔اور پھر یہودی کو مخاطب کر کے فرمایا: ” خوف خدا دل میں رکھ کر حلف دو کہ یہ جگہ واقعی تمہاری ہے۔اگر تم حلف (40)۔۔دے دو تو میرا فیصلہ تمہارے حق میں ہوگا۔مندرجہ ذیل واقعہ اس بات کا اور بھی زیادہ روشن ثبوت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی قوانین کا کیا مفہوم سمجھتے تھے۔ایک مرتبہ چند مسلمانوں نے بعض کاموں کی غرض سے خیبر کا سفر اختیار کیا۔رستے میں انہیں ایک مقتول مسلمان کی نعش ملی۔اس علاقے میں کوئی مسلمان آباد نہ تھا بلکہ صرف یہود آباد تھے جس کا صاف مطلب یہی تھا کہ قاتل کوئی یہودی ہی ہے۔چنانچہ مسلمانوں نے اس علاقے کے یہود کو بھی بحیثیت مجموعی اس قتل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ اس علاقے میں آباد یہو دل کر قصاص کی رقم مقتول کے ورثاء کو ادا کریں۔جب یہ مقدمہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وو یہ ایک نہایت سنجیدہ معاملہ ہے۔لیکن کیا تمہارے پاس کوئی ایسا ٹھوس اور واضح ثبوت ہے جس سے تمہارے اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہو کہ قاتل واقعہ کوئی یہودی ہی ہے؟ مسلمانوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! گواہ تو کوئی بھی نہیں ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود سے حلف نامہ لکھوانے کا فیصلہ فرمایا۔جس پر مسلمانوں نے عرض