عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 153 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 153

مسلمانوں اور غیر مسلموں كى ايك دوسرے کے خلاف شهادت يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِيْنَ الْوَصِيَّةِ اثْنَنِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ أَوْ أَخَرَنْ مِنْ غَيْرِكُمْ إِنْ اَنْتُمُ ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَأَصَابَتْكُمُ مُّصِيبَةُ الْمَوْتِ ( المائد 107:50) ترجمہ: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم میں سے کسی تک موت آپہنچے تو تمہارے درمیان شہادت کے طور پر وصیت کے وقت اپنے میں سے دو صاحب عدل گواہوں کا تقر ر ضروری ہے۔البتہ اگر تم زمین میں سفر کر رہے ہو اور تمہیں موت کی مصیبت آلے تو اپنوں کی بجائے غیروں میں سے دو گواہ بنا سکتے ہو۔153 ذراسی عقل رکھنے والا بھی بخوبی جان سکتا ہے کہ ایک مسلمان کی گواہی غیر مسلم کی گواہی کی نسبت اصولاً زیادہ معتبر شمار نہیں کی جاتی۔ہاں مسلم معاشرے میں داخلی معاملات پر فیصلہ کرتے وقت اگر گواہوں کی ضرورت پڑ جائے تو یہ فطرتی امر ہے کہ مسلمانوں میں سے گواہ طلب کئے جائیں گے۔لیکن اگر کوئی سفر پر ہوتو پھر ایک غیر مسلم کی گواہی بھی ویسی ہی معتبر ہوگی جیسی ایک مسلمان کی ہوتی ہے۔مذکورہ بالا دونوں آیات بطور خاص مالی معاملات سے تعلق رکھتی ہیں لہذا کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ ان کو عموم پر محمول کرے اور نہ ہی یہ روز مرہ حادثات اور جرائم وغیرہ کے واقعات پر اطلاق پاتی ہیں۔ایک اور بنیادی اصول یہ بھی ذہن میں مستحضر رہنا چاہئے کہ کسی بھی قرآنی آیت کا ایسا تر جمہ جو کسی اور قرآنی آیت یا حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے متصادم ہو ہرگز قابلِ قبول نہیں۔مسلم اور غیر مسلم کی شہادت کے متعلق اختلاف کو طے کرنے کا آسان اور بہترین طریق یہ ہے کہ معاملے کی جانچ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور کردار کی کسوٹی پر کی جائے۔قرآن کریم کی کوئی بھی ایسی تشریح جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرۃ وسوانح کے عین مطابق ہو قبول کر لی جائے اور جہاں دونوں میں بظاہر تقضاد دکھائی دے تو کوئی بھی نتیجہ اخذ کرنے سے پہلے مزید تحقیق کر لی جائے۔آئیے ایک واقعہ کا تجزیہ کریں جو کہ سنن ابو داؤد میں درج ہے۔اس سے معلوم ہوگا کہ زیر غور معاملے کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تشریح فرمائی تھی اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل قرآن کریم کی عملی تفسیر تھا۔