عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 127 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 127

عبادت میں عدل، احسان اور ایتاء ذی القربیٰ کا مقام 127 یہ دلچسپ واقعہ عدل کے ساتھ ساتھ احسان اور ایتاً و ذی القربیٰ کا بھی احاطہ کئے ہوئے ہے۔اگر ایک شخص صرف انصاف کا طالب ہے تو اس کے ساتھ محض انصاف ہی برتا جائے گا۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نصیحت فرمائی ہے کہ ہم ہمیشہ انصاف کی بجائے رحم مانگیں۔جہاں تک مذکورہ بالا واقعہ کا تعلق ہے تو اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعانے مریض کو موت کے منہ سے چھڑالیا۔یہ در حقیقت ایتا عذی القربی کا اظہار ہے۔وگرنہ اس قدر خطر ناک بیماری سے بچ نکلنے کا بظا ہر کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا تھا۔دعا کے مضمون کے ضمن میں اب ہم جائزہ لیتے ہیں کہ عدل ، احسان اور ایتاً ذی القربی دیگر طریق ہائے عبادت میں کس طرح اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔بانی جماعت احمد یہ حضرت مرزا غلام احمد بالصلوة والسلام نے اس ضمن میں ان تینوں موضوعات پر الگ الگ روشنی ڈالی ہے۔ذیل میں آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات میں سے کچھ اقتباسات درج کئے جاتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: " خدا تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے در حقیقت تین قسم پر منقسم ہیں۔اول وہ لوگ جو بباعث محجوبیت اور رؤیت اسباب کے احسانِ الہی کا اچھی طرح ملاحظہ نہیں کرتے اور نہ وہ جوش ان میں پیدا ہوتا ہے جو احسان کی عظمتوں پر نظر ڈال کر پیدا ہوا کرتا ہے اور نہ وہ محبت ان میں حرکت کرتی ہے جو محسن کی عنایات عظیمہ کا تصور کر کے جنبش میں آیا کرتی ہے۔(20) انسان اپنے روزمرہ معاملات میں ہر وقت احسان الہی کا دست نگر ہے۔دن ہو یا رات ، سوتے اور جاگتے گویا ہر ایک حرکت میں وہ برکات خداوندی کا مهبط ہے۔بعض لوگ اپنی زندگی غفلت میں ہی گزار دیتے ہیں اور انہیں یہ عرفان ہی نہیں ہو پا تا کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنے فضلوں کی بارش مسلسل برساتا چلا جا رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مزید فرماتے ہیں: چونکہ خدا تعالیٰ انسان کو اس کے وسعت فہم سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا اس لئے ان سے جب تک کہ وہ اس حالت میں ہیں یہی چاہتا ہے کہ اس کے حقوق کا شکر ادا کریں اور آیت إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدُلِ میں عدل سے مراد یہی (21)۔۔اطاعت برعایت عدل ہے۔“ وہ لوگ جو خوف کھاتے ہیں اپنی نمازوں کے متعلق جن میں ان کو سرور نہیں مل رہا ہوتا۔جن میں وہ خدا تعالیٰ کے حضور حضوری کے جذبات نہیں پاتے اور بڑے فکر کے بعض لوگوں کے خط آئے ہیں