عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 128 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 128

128 عدل، احسان اور ایتاء ذى القربى - حصه دوم ان کو کم از کم اتنی خوشخبری تو ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ انکے حال کے مطابق معاملہ کرے گا اور یہاں عدل بھی اللہ کا احسان ہے وہ جانتا ہے آپ کی کیفیات کو آپکی کمزوریوں کو۔خدا تعالیٰ یہاں عدل کا سلوک فرمائے گا۔بہت اچھا تو نے اپنی طاقت کے مطابق تو عبادت شروع کر دی میں اسی کو قبول کر لیتا ہوں لیکن اسپر کھڑے رہنا مومن کا کام نہیں کیونکہ ترقیات کے لامتناہی آگے دروازے کھلے ہیں اور یہی عبادت پھر احسان میں داخل ہو جاتی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس سے بڑھ کر ایک اور مرتبہ انسان کی معرفت کا ہے اور وہ یہ ہے کہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں انسان کی نظر رویت اسباب سے بالکل پاک اور منزہ ہو کر خدا تعالیٰ کے فضل اور احسان کے ہاتھ کو دیکھ لیتی ہے اور اس مرتبہ پر انسان اسباب کے حجابوں سے بالکل باہر آ جاتا ہے اور یہ مقولہ کہ مثلاً میری اپنی ہی آبپاشی سے میری کھیتی ہوئی یا میرے اپنے ہی بازو سے یہ کامیابی مجھے ہوئی یا زید کی مہربانی سے فلاں مطلب میرا پورا ہوا اور بکر کی خبر گیری سے میں تباہی سے بچ گیا۔یہ تمام باتیں بیچ ہیں اور باطل معلوم ہونے لگتی ہیں اور ایک ہی ہستی اور ایک ہی قدرت اور ایک ہی محسن اور ایک ہی ہاتھ نظر آتا ہے۔تب انسان ایک صاف نظر سے جس کے ساتھ ایک ذرہ شرک فی الاسباب کی گرد و غبار نہیں خدا تعالیٰ کے احسانوں کو دیکھتا ہے اور یہ رویت اس قسم کی صاف اور یقینی ہوتی ہے کہ وہ ایسے محسن کی عبادت کرنے کے وقت اس کو غائب نہیں سمجھتا بلکہ یقیناً اس کو حاضر خیال کر کے اس کی عبادت کرتا ہے اور اس عبادت کا نام قرآن شریف میں احسان ہے اور صحیح بخاری اور مسلم میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کے یہی معنی بیان فرمائے ہیں، (22) اس طرح انسان مقام عدل سے ترقی کر کے مقام احسان کو پالیتا ہے۔جب ہم ذکر الہی میں اس قدر کھوئے جائیں تو اللہ تعالیٰ کا احسان اس کی محبت کے ساتھ ساتھ ہمارے رگ و ریشے میں سرایت کر جاتا ہے۔تب اس کے احسان کی قدر دانی محض ایک دلچسپ ذہنی عمل نہیں ہوتا بلکہ اس کے جذبات کا طبعی جزو بن جاتی ہے۔نتیجہ ایسا انسان ایک سچی تڑپ کے ساتھ خدا تعالیٰ سے محبت کرنے (22)،،