عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 126 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 126

126 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربى - حصه دوم کے نوافل ادا کرنے لگے۔پھر ہم لوگ واپس گھروں کو لوٹ آئے۔(18) فلسفه دعا اب ہم آداب دعا کی طرف لوٹتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ دعا کیسے مانگنی چاہئے؟ فلسفہ دعا کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں صاف طور پر فرماتا ہے کہ جولوگ صرف دنیوی نعماء طلب کرتے ہیں انہیں صرف وہی عطا کی جاتی ہیں لیکن خدا کے بندے ان ادنی ادنیٰ اشیاء پر راضی نہیں ہوتے۔چنانچہ قرآن کریم سچے مومنوں کو یہ دعا مانگنے کی تلقین فرماتا ہے کہ: رَبَّنَا اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ( البقرة 202:2) ترجمہ: اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی حسنہ عطا کر اور آخرت میں بھی حسنہ عطا کر اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔مختلف احادیث کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی کو یہ دعا مانگنے کی ہدایت فرمائی تھی۔بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک صحابی بیمار پڑ گئے۔وہ انتہائی کمزور لاغر اور دبلے پتلے ہو گئے۔ان کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے ایک اور صحابی بیان کرتے ہیں کہ گویا کسی پرندہ کے پر نوچ لئے گئے ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کیلئے تشریف لے گئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ ان کی نفسیات سے اچھی طرح واقف تھے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محض ایک ہی بات ان سے پوچھی کہ : " کیا تم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے ہو کہ وہ تمہاے نیک اعمال کی جزاء صرف آخرت میں دے اور اس زندگی میں نہیں ؟ صحابی نے عرض کیا جی ہاں ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، کچھ ایسا ہی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے یہ التجا کرتا ہوں کہ وہ میرے تمام گناہوں کی سزا مجھے اسی زندگی میں دے دے لیکن آخرت میں آگ کے عذاب سے بچالے۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " سبحان اللہ ! تم اس کے غضب کو برداشت کرنے کی طاقت ہی کہاں رکھتے ہو؟ تمہیں تو یہ دعا کرنی چاہئے تھی کہ اللہ اس دنیا کی حسنات بھی عطا فرمائے اور آخرت کے عذاب سے بھی بچائے۔“ چنانچہ بیان کیا جاتا ہے کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے دعا کی تو ان کی حالت بہتر ہونا شروع ہوئی یوں وہ موت کے چنگل سے رہا ہوئے۔( (19)