عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 125 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 125

عبادت میں عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی کا مقام 125 بارے میں قطعی رائے قائم کرنا درست نہیں ہوتا۔اس لئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صرف اس امکان کا اظہار فرمایا کہ بچ جانے کی نسبت موت کا شکار ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔حضرت منشی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مزید فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے درخواست کی کہ محمد حیات کیلئے دعا کریں جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فور دعا کیلئے تیار ہو گئے۔حضرت منشی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گھبراہٹ سے عرض کیا کہ حضور! دعا کا وقت تو نکل چکا ہے اب تو صرف شفاعت ہی کام آسکتی ہے نوجوان کی حالت بہت ہی دگر گوں تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اندر تشریف لے گئے اور پوری توجہ سے دعا میں مشغول ہو گئے۔صبح دو بجے کے قریب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے چھت پر تشریف لا کر محمد حیات کی صحت کے بارہ میں استفسار فرمایا۔ہم میں سے کسی نے کہا کہ ”شاید اب تک تو وہ فوت بھی ہو چکا ہو۔آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جاؤ اور اس کا پتہ کرو۔جب ہم اس کا پتہ کرنے پہنچے تو اسے باغیچے میں چہل قدمی اور تلاوت قرآن کریم کرتے پایا۔اس نے کہا کہ ڈرنے کی اب کوئی ضرورت نہیں ، میرے قریب آئے کیونکہ گلٹیاں بھی سرے سے غائب ہو چکی ہیں اور بخار بھی بالکل جاتا رہا ہے اور اب میں مکمل طور پر صحت مند ہوں۔ہم نے واپس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہو کر محمد حیات کے متعلق بتایا کہ وہ بالکل تندرست ہو چکا ہے۔جس پر آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ: پھر تم اسے اپنے ساتھ کیوں نہیں لے کر آئے۔“ قبل از میں محمد حیات کے والد صاحب کو ٹیلی گرام کے ذریعہ یہ اطلاع بھجوائی جا چکی تھی کہ ان کے بیٹے کا بچنا اب محال ہے لیکن اب یہ سمجھا گیا کہ اس عظیم الشان معجزہ کے بارہ میں انہیں بتایا جانا اشد ضروری ہے تا کہ ان کو بھی ذہنی اطمینان اور سکون حاصل ہو۔چنانچہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اجازت لے کر بٹالہ کیلئے روانہ ہو گئے تاکہ وہاں سے ایک اور ٹیلی گرام دیا جا سکے۔بٹالہ قادیان کے مغرب میں بارہ میل کی مسافت پر ایک قصبہ ہے جہاں ٹیلی گرام وغیرہ کی سہولت میسر تھی لیکن ہماری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی کہ جب قادیان سے صرف دو میل دور نہر کے کنارے کنارے ہم نے دیکھا کہ ایک تانگے میں سوار حیات صاحب ( محمد حیات خان کے والد۔مترجم) قادیان کی طرف چلے آرہے ہیں۔انہوں نے ہم سے دریافت کیا کہ ”حیات خان کیسا ہے؟“ ہم نے انہیں اس معجزے کے بارے میں بتایا۔وہ یہ خوشخبری سن کر بے ہوش ہو گئے۔جب انہیں ہوش آیا تو وضو کیا اور شکرانے