عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 120
120 عدل، احسان اور ایتاء ذى القربى - حصه دوم میرے دل میں ابھی باقی ہے کہ مجھے دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ میں تیرے دشمنوں سے پھر مقابلہ کروں اور ایک بار پھر تیری راہ میں مارا جاؤں اور میں چاہتا ہوں کہ ایسا بار بار، بلکہ سینکڑوں بار ہو۔“ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میں تمہاری یہ خواہش پوری کر دیتا اگر پہلے سے میرا یہ فیصلہ نہ ہوتا کہ جو کوئی ایک مرتبہ میرے پاس آجائے اسے میں واپس نہیں لوٹا یا کرتا (15) قرآن کریم میں دین کی خاطر جان قربان کرنے کے مضمون پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔قرآن کریم ایمان کے ابتدائی مدارج کا ذکر کرتا ہے اور وعدہ فرماتا ہے کہ کمزوروں کے ساتھ انصاف کا معاملہ کیا جائے گا۔اس میں احسان کا بھی ذکر ہے کہ انہیں ضرور ان کے احسان کا بدلہ دیا جائے گا اور پھر صف اول کے ایسے مومنین کا بھی ذکر ہے جو سچائی سے اس سے بھی بڑھ کر محبت رکھتے ہیں جتنی ماں اپنے بچے کیلئے رکھتی ہے۔وہ اپنی قربانیوں کا کوئی اجر نہیں چاہتے بلکہ انہیں سچائی کی خاطر قربانیاں پیش کر کے حقیقی طور پر دلی مسرت حاصل ہوتی ہے۔