عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 119
اسلامی جہاد کے متعلق غلط فهمی 119 نچھاور نہیں کر سکتے جب تک وہ الہی منشا کو اپنا نصب العین نہ بنالیں۔ان کیلئے واحد محرک خدا تعالیٰ کی محبت اور یہ شدید خواہش ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی ان کی اس محبت کا جواب محبت ہی سے دے۔یہ قربانی اس قربانی سے کہیں بڑھ کر ہے جو حقیقی اور خونی رشتہ دار ایک دوسرے کیلئے پیش کر سکتے ہیں۔یہ تو ممکن ہے کہ بعض مائیں شدید اذیت کے وقت اپنی بجائے اپنے بچے کو اس اذیت میں ڈالنے کیلئے کسی کے حوالے کر دیں لیکن یہ عشاق الہی اللہ تعالیٰ کے ساتھ چمٹا رہنے کی کوشش میں سب کچھ کر گزرتے ہیں۔تاہم یہ بالکل ممکن ہے کہ ایمان کے لحاظ سے ان کے مدارج میں فرق ہو۔کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو زندگی قربان کرتے ہیں لیکن اگر ایسی قربانی سے بچنا ممکن ہو تو وہ خوش رہیں گے۔پھر ایسے بھی ہیں جو اپنے دین کی خاطر جان قربان کرنے کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے صحابہ نے شدید خطرات کے وقت پیٹھ پھیر کر بھاگ جانے کی بجائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی شہادت کیلئے دعا کی درخواست کی۔غزوہ احد میں ہمیں اسی جوش و جذبہ کی ایک عظیم الشان مثال ملتی ہے۔ایک صحابی بار بار میدان جنگ کی انگلی صفوں میں جا کر لڑتے اور ہر بار زندہ سلامت واپس لوٹ آتے۔بالآخر انہوں نے اپنی شہادت کیلئے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کی درخواست کی۔ان میں سے بعض ایک بار کی شہادت پر راضی نہ تھے۔ان کی دلی تمنا تھی کہ انہیں بار بار زندگی عطا کی جائے اور وہ کسی بھی ظالم کے آگے سر جھکانے کی بجائے اسی طرح ہر بار حق کی خاطر جان فدا کرتے چلے جائیں۔یقیناً یہی وہ لوگ ہیں جو ایت آ ذی القربی یا اس سے بھی بلند تر مقام پر فائز ہوتے ہیں۔بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر اپنے ایک صحابی، حضرت جابر بن عبد اللہ کو انتہائی مغموم حالت میں دیکھا۔حضرت جابڑ کے والد ماجد غزوہ احد میں شہید ہو گئے تھے۔ان کو اس طرح مغموم دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں خوشی کی خبر نہ دوں؟“ حضرت جابرؓ نے عرض کیا ”جی ہاں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تمہارے والد شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے استفسار فرمایا کہ مانگو جو مجھ سے مانگنا چاہتے ہو تمہارے والد نے جواباً عرض کیا کہ ”اے میرے اللہ ! کون سی رحمت اور فضل ایسا ہے جو تو نے مجھ پر نہیں کیا۔تاہم ایک خواہش