عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 95 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 95

اسلام مذہبی تعلیمات کا منتهی 95 حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم در حقیقت بنیادی طور پر قرآن کریم کی تعلیم کی طرح ہی سادہ رواضح تھی کہ انصاف کو انصاف کے محل پر اور بخشش کو بخشش کے مقام پر رکھا جائے۔لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى کا واضح قرآنی اعلان جرم وسزا کے معاملہ میں ایک اہم پہلو کو بیان کرتا ہے جو انسانی فطرت سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔اس سے قبل ایک اور مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے جو آیت پیش کی گئی تھی وہ موروثی گناہ کے عقیدے کو نہایت عمدگی سے رد فرما رہی ہے۔یہ نہ صرف انسان کو پیدائشی طور پر گناہ سے پاک قرار دیتی ہے بلکہ اس کی فطرت کو اللہ کی فطرت سے مشابہ قراردے کر بنی نوع انسان کے شرف اور مرتبہ کوبھی خراج تحسین پیش کر رہی ہے۔یہاں وہی آیت دوبارہ درج کی جاتی ہے: فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيْمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ (الروم 31:30) ترجمہ: پس (اللہ کی طرف) ہمیشہ مائل رہتے ہوئے اپنی توجہ دین پر مرکوز رکھ۔یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا۔اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں۔یہ قائم رکھنے اور قائم رہنے والا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔جہاں تک ماضی، حال اور مستقبل کا تعلق ہے تو مذکورہ بالا آیات ان تینوں زمانوں کے انسانوں کے مابین مکمل تو ازن کی نہایت عمدہ تصویر پیش کر رہی ہیں۔ہر انسانی نسل سے برابر سلوک کیا جائے گا اور کوئی نسل بھی احتساب سے مستثنیٰ قرار نہیں پائے گی۔ماضی، حال اور مستقبل کے مابین عدل کے مسئلے کو بیان کرتے ہوئے قرآن کریم یہ ہدایت دیتا ہے: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (الحشر 19:59) ترجمہ: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر جان یہ نظر رکھے کہ وہ کل کیلئے کیا آگے بھیج رہی ہے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔یقیناً اللہ اس سے جو تم کرتے ہو ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔آنے والی نسلیں اپنے بداعمالیوں کیلئے جواب دہ ہوں گی بالکل اسی طرح جیسے موجودہ اور گزشتہ زمانے کے لوگ اپنے اعمال کیلئے جواب دہ ہوں گے۔خدا تعالیٰ کے غضب اور اس کی سزا