عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 96
96 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول کے لحاظ سے ہر نسل دوسری نسل سے الگ ہے۔پہلوں کے گناہوں کا بوجھ آج کے لوگوں پر اور آج کے لوگوں کے گناہوں کا بوجھ آنے والوں پر نہیں ڈالا جائے گا۔عدل کی یہ حسین تعریف پولوس کی اس عیسائیت میں کہیں بھی نہیں ملتی جس پر آج عیسائیوں کی اکثریت عمل پیرا ہے۔حالانکہ حضرت عیسی علیہ السلام نے یہ تعلیم دی کہ ہر شخص اپنا بوجھ خود اٹھائے گا جبکہ پولوس کے نقش قدم پر چلنے والے عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ہر آئندہ نسل گزشتہ نسلوں کے تمام گناہوں کا بوجھ اٹھائے گی۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلوةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيَّان (مریم 60:19) ترجمہ: پھر ان کے بعد ایسے جانشینوں نے (ان کی ) جگہ لی جنہوں نے نماز کو ضائع کردیا اور خواہشات کی پیروی کی۔پس ضرور وہ گمراہی کا نتیجہ دیکھ لیں گے۔اگر نیک لوگوں کی اولا دا پنی عبادتوں سے غافل ہو جاتی ہے اور شہوات کی پیروی کرتی ہے تو ان کے آبا و اجداد کی نیکی ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔جس طرح کوئی نسل گزشتہ نسلوں کے گناہوں کی سزا نہ پائے گی اسی طرح آئندہ زمانے کے انسان کو گزشتہ لوگوں کے نیک اعمال کی جزا بھی نہیں ملے گی۔قرآن کریم کے بغور مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآنی تعلیمات اتفاقی ، بے ربط اور بے جوڑ نہیں ہیں بلکہ یہ ایک عظیم اور حسین نظام کا حصہ ہیں جو دراصل عدل کے قیام اور استحکام پر مبنی ہے۔اس میں تمام انسانوں کے ساتھ یکساں سلوک روا رکھا گیا ہے قطع نظر اس کے کہ وہ کس جگہ اور کس زمانے میں پیدا ہوئے۔تمام انسانوں کے بنیادی حقوق ایک جیسے ہی ہیں۔مختلف افراد کے مابین پائے جانے والے نسلی اور زمانی امتیازات کی بنیاد بھی عدل وانصاف پر ہے نیز مشرق ومغرب، کالے گورے اور عربی عجمی کے مابین تمام تعلقات بھی عدل کے آفاقی اصول پر ہی مبنی ہیں۔اس عظیم الشان کامل اور حسین تعلیم کے متعلق بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک ناخواندہ عرب نے جو بکریاں چرایا کرتا تھا ، خود بنالی اور پھر اسے خدا کی طرف منسوب کر دیا۔اس سے بڑھ کر جھوٹی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔کسی زمانہ کا کوئی عالم آج تک ایسی حسین اور متوازن تعلیم کا عشر عشیر بھی دنیا کے سامنے پیش نہیں کر سکا۔بلکہ وہ تمام کتب جنہیں الہامی تسلیم کیا جاتا ہے یکجائی طور پر بھی ایسی متوازن اور حسین تعلیم پیش نہیں کر سکتیں جو اسلام نے پیش کی۔پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ عرب کے خشک