عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 74 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 74

74 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول کیلئے مال کا خرچ کرنا۔وہ تین بنیادی تعلیمات ہیں جو تمام مذاہب میں پائی جاتی ہیں۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے: وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلوةَ وَيُؤْتُوا الزَّكُوةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ (البينة 6:98) ترجمہ: اور وہ کوئی حکم نہیں دیئے گئے سوائے اس کے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، دین کو اس کے لئے خالص کرتے ہوئے ، ہمیشہ اس کی طرف جھکتے ہوئے اور نماز کو قائم کریں اور زکوۃ دیں۔اور یہی قائم رہنے والی اور قائم رکھنے والی تعلیمات کا دین ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کی جنت : حضرت آدم کو عطا کی جانے والی شریعت اس عالمگیر اصول سے مختلف نہیں ہو سکتی تھی۔مندرجہ بالا آیات میں خدا اور انسان کے باہمی تعلق کی وضاحت کی گئی ہے اور انسان کے انسان کے ساتھ تعلق کے اصول یعنی وہ شریعت جو حضرت آدم علیہ السلام کو عطا کی گئی قرآن کریم نے دو آیات میں کر دی ہے۔ان میں سے پہلی آیت جس کثرت سے بیان کی جاتی ہے اسی قدر اس سے غلط مطلب اخذ کیا جاتا ہے۔یہ بہشت کے دو درختوں سے متعلق حضرت آدم علیہ السلام کو دیئے گئے حکم خداوندی کے بارے میں ہے ان میں سے ایک درخت کے متعلق تو اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام اور حوا کو اجازت دے رکھی تھی کہ بلا روک ٹوک جہاں سے چاہیں اس کا پھل کھائیں لیکن دوسرے درخت سے دور رہنے کی آدم کو تاکیدی نصیحت فرمائی تھی۔قرآن کریم میں یہ درخت، شجرہ خبیثہ کے طور پر مذکور ہے۔عام طور پر لوگ اس کے ظاہری معنی لیتے ہیں اور اسے زمین پر پائے جانے والے پھل دار درختوں جیسا ہی ایک درخت سمجھتے ہیں اور چونکہ یہ بیان عہد نامہ قدیم کے بیان سے بہت مشابہ ہے اس لئے مسلم، یہود اور عیسائی مفسرین نے استعارہ استعمال ہونے والے ان الفاظ میں مضمر معانی کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔میں اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کہ مختلف علماء نے اس سے کیا کیا استنباط کیا ہے لیکن میں پورے وثوق سے کہ سکتا ہوں کہ ان دونوں درختوں سے مراد شریعت خداوندی کے اوامر و نواہی پر مشتمل تعلیم ہی ہے جو حضرت آدم کو دی گئی تھی۔شجرہ خبیثہ کا تعلق شریعت کے اس حصے سے ہے جس