عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 73 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 73

مذهب کی تشکیل میں تین تخلیقی اصولوں کا کردار 73 قرآن کریم کی ایک اصطلاح «نفس“ ہے جو بکثرت استعمال ہوئی ہے جس کا سیدھا سادا مطلب ہے ”زندگی“۔لیکن یہ روح کی طرح معین اصطلاح نہیں ہے۔ہر جاندار نفس یعنی زندگی رکھتا ہے لیکن ہر زندہ چیز روح نہیں رکھتی۔ان دونوں اصطلاحات میں یہی بنیادی فرق ہے۔روح، شعور کی دوسری اور زیادہ ترقی یافتہ حالت کا نام ہے جو جسم کے مرنے پر اس سے جدا ہو جانے کے باوجود از خود زندہ رہنے کی اہلیت رکھتی ہے۔توانائی کی اس اکائی کی وضاحت ممکن نہیں کیونکہ انسانی علم ابھی اس مقام تک نہیں پہنچا جہاں وہ روح کی ماہیت کو سمجھ سکے۔بہر حال انسانی فہم و ادراک کی سہولت کی خاطر قرآن کریم روح کو كَلِمَةُ الله “ قرار دیتا ہے۔اس سے زیادہ انسان روح کو نہیں سمجھ سکتا۔نفع کا بنیادی معنی وحی الہی ہے چنانچہ وحی کے سارے عمل کا احاطہ یہی اصطلاح کرتی ہے۔روح کی پیدائش زندگی کے ارتقا کا اگلا قدم ہے۔روح کہیں باہر سے نہیں آیا کرتی بلکہ یہ پہلا بلند مرتبہ ہے جو خدا تعالیٰ انسانوں کو عطا کیا کرتا ہے جبکہ وحی الہی دوسرا بلند تر درجہ ہے جس کے ذریعے خدا تعالیٰ اپنے چنیدہ بندوں کو عام لوگوں سے ممتاز کر کے دکھلاتا ہے۔وحی الہی سے مشرف ہونے والوں میں سے بعض نبوت جیسے بلند تر مقام پر سرفراز کئے جاتے ہیں۔پس نخ روح کے ذریعے زمین پر خدا تعالیٰ کے خلیفہ کی پیدائش اس اصطلاح کے اعلیٰ اور لطیف معنی ہیں۔اس نقطہ نگاہ سے نبی اللہ کی اطاعت کو نہ تو خلاف عدل کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی خلاف عقل قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ نبی صرف اور صرف خلیفہ اللہ کی حیثیت سے ہی اطاعت کا مستحق ٹھہرتا ہے۔خدا تعالی کی نمائندگی کا استحقاق اسی کو ہوتا ہے جو سچائی کے ساتھ کامل وابستگی کی بدولت ہمیشہ خدا تعالیٰ کا معتمد ہوتا ہے۔چنانچہ ناممکن ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغام کے تعلق میں بنی نوع انسان کے ساتھ کسی بھی قسم کی نا انصافی کا مرتکب ہو۔اللہ تعالیٰ اس کی تمام صلاحیتوں کو ایک کامل تناسب اور توازن کے کمال تک پہنچانے کے بعد ہی اسے نبوت کے اعلیٰ مقام پر سرفراز کیا کرتا ہے اور اپنا کامل اعتماد اسے عطا فرماتا ہے اور وہ بندہ کبھی بھی اس اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچاتا۔ان خلفاء میں بعض تو صاحب شریعت نبی ہیں جو شریعت خداوندی کے نئے دور کا آغاز کرتے ہیں۔جب تک یہ دور جاری رہتا ہے ان کے نقش قدم پر آنے والے انبیاء کوئی نئی شریعت نہیں لاتے۔وہ حاملین وحی نبوت ہوتے ہیں اور خدا تعالی کی نمائندگی میں دیگر فرائض بھی سرانجام دیتے ہیں۔مثلاً خدا تعالیٰ کی ہستی پر لوگوں کے ایمان کو مضبوط کرنا اور معاشرے کی اصلاح کرنا۔قرآن کریم کے نزدیک خدا تعالیٰ کی عبادت، مقررہ طریق پر نماز کی ادائیگی اور نیک کاموں