عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 75 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 75

مذهب کی تشکیل میں تین تخلیقی اصولوں کا کردار 75 میں اللہ تعالیٰ نے مذہبی معاشرے کو باہمی تعلقات میں اخلاق اور عدل کے احکام کی حدود سے تجاوز کرنے سے منع فرمایا ہے۔تاہم اس کے معانی کی تعیین کو انسان کی سمجھ پر ہی نہیں چھوڑ دیا گیا جس کے عدل اور دیانت وغیرہ کے تصورات دیگر انسانوں سے مختلف ہو سکتے ہیں۔اس کی روک تھام کیلئے انبیاء علیہم السلام کو دی گئی تعلیم نہایت واضح اور جامع ہے۔دوسرا درخت وہ ہے جس پر طیب پھل لگتے ہیں۔اس میں سے جہاں سے چاہیں کھانے پر آدم علیہ السلام اور حوا کو آزادی دی گئی۔اس سے واضح طور پر آدم علیہ السلام کو دی گئی شریعت کے مثبت احکام یعنی اوامر مراد ہیں۔اگر چہ اس آیت میں مجوزہ ضابطہ اخلاق کے بنیادی خاکے کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں پھر بھی اس سے بآسانی یہ استنباط کیا جاسکتا ہے کہ آدم اور ان کی جماعت کو ایک دوسرے کے بنیادی حقوق پامال کرنے سے منع کر دیا گیا کیونکہ یہی باتیں ہیں جو ہمیشہ نقض امن اور سخت تکلیف کا باعث ہوا کرتی ہیں۔اسی موضوع پر ایک اور آیت اس ابتدائی معاشرے کے مناسب حال، اقتصادی عدل کے ضابطے کی بنیادیں استوار کرتی دکھائی دیتی ہے۔إِنَّ لَكَ أَلَّا تَجُوْعَ فِيْهَا وَلَا تَعْرَى وَاَنَّكَ لَا تَطْمَؤُا فِيهَا وَلَا تَضْحى (120,119:20; b) ترجمہ: تیرے لئے مقدر ہے کہ نہ تو اس میں بھوکا رہے اور نہ ننگا اور یہ (بھی) کہ نہ تو اس میں پیاسا ر ہے اور نہ دھوپ میں جلے۔پس اقتصادی پہلو سے حضرت آدم کی تعلیمات میں ایک معاشرے کی تشکیل کے آغاز میں ہی چار بنیادی حقوق انسان کو دیئے گئے ہیں: (۳ ہر انسان کا حق ہے کہ اسے مناسب غذا ملے۔کوئی بھی بھوکا نہیں رہے گا، مناسب لباس بھی ہر شخص کا بنیادی حق ہے، ہر شخص کو صاف اور صحت بخش پانی کی فراہمی کی ضمانت دی گئی ہے، (۴) کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہو گا جسے سر چھپانے کی جگہ میسر نہ ہو۔تاہم کثر علماء کے نزدیک حضرت آدم علیہ السلام کے قصے میں جس جنت کا ذکر ہے وہ دراصل وہی جنت ہے جس کا آخرت میں مومنین سے وعدہ کیا گیا ہے۔ایسے نظریات پر غور کریں تو انسان یہ