عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 237 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 237

رشتہ داروں کے متعلق عدل و احسان کی تعلیم 24 رشتہ داروں کے متعلق عدل و احسان کی تعلیم 237 یہ تو بین الاقوامی تعلقات کی بات تھی اب میں اندرونی طور پر تقسیم کے لحاظ سے قرآن کریم کے عائد کردہ حقوق اور فرائض کی بات کرتا ہوں۔یہ حقوق ماں باپ کے بچوں پر۔بچوں کے ماں باپ پر، بہن بھائیوں کے ایک دوسرے پر قریبی رشتہ داروں کے آپس میں ایک دوسرے سے تعلقات کے مضمون پر مشتمل ہیں۔والدین کے بچوں پر حقوق: سب سے پہلے والدین کے حقوق کی بات ہے۔والدین کے ساتھ احسان کا تاکیدی حکم: اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهُنَّا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَلُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَى الْمَصِيرُ (لقمان 15:31) ترجمہ: اور ہم نے انسان کو اسکے والدین کے حق میں تاکیدی نصیحت کی۔اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری میں اٹھائے رکھا اور اس کا دودھ چھڑانا دوسال میں (مکمل ) ہوا۔(اسے ہم نے یہ تاکیدی نصیحت کی ) کہ میرا شکر ادا کر اور اپنے والدین کا بھی۔میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔اس ضمن میں حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا خاک آلودہ ہو اس کی ناک ، خاک آلودہ ہو اس کی ناک، خاک آلودہ ہو اس کی ناک ( تین دفعہ یہ الفاظ دہرائے ) یہ عربی محاورہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ رسوا ہو گیا وہ ذلیل ہو گیا جس نے ایسی بات کی ،صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کون ہے وہ شخص؟ کس کی بات فرمارہے ہیں۔جس کی آپ مذمت کر رہے ہیں؟ فرمایا بہت ہی قابل مذمت اور بدقسمت ہے جس نے بوڑھے ماں باپ کو پایا اور پھر ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہوسکا۔(60) یہ بات بظاہر چھوٹی سی ہے لیکن آج اگر آپ انسانی معاشرہ پر نظر ڈال کر دیکھیں مغرب میں بھی اور مشرق میں بھی بچے اپنے والدین کے حقوق ادا کرنے سے دن بہ دن غافل ہوتے چلے