عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 238 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 238

238 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه چهارم جار ہے ہیں۔یہ بات مغرب میں زیادہ ہے اور مشرق میں نسبتا کم۔مگر مشرق میں بھی پھیلتی چلی جارہی ہے اور اسکے نتیجہ میں بہت ہی خوفناک دکھ معاشرے میں پھیل گئے ہیں لیکن آنحضرت ملے نے قرآنی تعلیم کے مطابق بار بار اپنے صحابہ کو ماں باپ کے حقوق کی طرف متوجہ فرمایا ، ان کے حقوق کو واضح کیا اور ایسا احترام دلوں میں پیدا کر دیا جس کے نتیجہ میں ایک نہایت ہی حسین معاشرہ دنیا کے سامنے ابھرا۔ایک دفعہ ایک اعرابی حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی کرخت آواز میں جیسا کہ صحرائی لوگوں کی بات کرنے کی عادت تھی۔عرض کیا یا رسول اللہ ! میرا باپ میرا مال بٹورنا چاہتا ہے۔آنحضور نے اس کو ویسا ہی جواب دیا مگر ویسے کرخت الفاظ میں نہیں مگر جس طرح اس کے دل میں ایک سختی اور شدت پائی جاتی تھی اس کا علاج اس کو یہ بتایا کہ جاتو اور تیرا مال تیرے والد کی ملکیت ہے اور تمہاری اولادوں کے اموال بھی تمہاری کمائی ہیں مزے سے اسے کھاؤ۔(1 باپ کے متعلق کوئی بیٹا یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ میرا مال بٹور رہا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ والد کو یہ اجازت ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی کمائی میں سے اس طرح کھائے ، اس طرح اسے استعمال کرے جیسے وہ اس کی ہے۔لیکن بیٹے کو یہ اجازت نہیں دی کہ وہ والد کی کمائی سے اس طرح کا سلوک کرے۔اب بظاہر یہ بات عدل کے خلاف ہے لیکن آپ ذرا سا غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ بعینم اسی طرح ہونا چاہیے تھا۔باپ بیٹے سے جو محبت رکھتا ہے بیٹا باپ سے ویسی محبت فطرتا نہیں رکھ سکتا۔کیونکہ باپ کا مستقبل ہے بیٹا اور باپ بیٹے کا ماضی ہے اور بہت جلد بیٹے کا مستقبل اپنی اولاد اور اپنی بیوی بچوں کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔یہ ایک ایسی انسانی فطرت کی بات ہے جو آج دنیا میں ہر جگہ اس طرح آپ کو دکھائی دے گی کہ کوئی معقول اور سچائی پسند انسان اس سے انکار نہیں کرسکتا۔یقیناً اس اصول میں استثناء پائی جاتی ہے لیکن استثناء تو اصول کو ثابت کیا کرتی ہے۔پھر باپ تو ایک ہوا کرتا ہے اور بیٹے کئی۔اگر ہر بیٹے کو حق دے دیا جائے کہ باپ کی دولت پر اس طرح چڑھ دوڑے گویا کہ اس کی ہے، تو فساد عظیم برپا ہو جائے۔دیکھئے قرآن کریم کیسی فطرت کی تعلیم ہے اور آنحضرت ﷺ نے اس کو اسی طرح سمجھا کر بیان فرمایا۔باپ کا بیٹے کی کمائی میں حق ہے اور اگر ماں باپ بوڑھے ہو جائیں تو ان کو بیٹے جو کچھ پیش کریں وہ صدقہ کے رنگ میں نہیں۔یہ نہ سمجھیں کہ وہ کوئی احسان کر رہے ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضور ﷺ کی خدمت میں ایک بیٹا حاضر ہوا اور اس نے