عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 201 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 201

بندہ سے خدا کا معاہدہ اور ذیلی معاهدات 201 دیکھنا پسند نہیں کرتا۔پس نظر نہ ڈالنے کا معنی یہاں یہ لیا جائے گا کہ ان پر شفقت کی نظر نہیں ڈالتا، اسے قبولیت کی نظر سے نہیں دیکھتا۔خدا تعالیٰ ہر چیز کا خالق و مالک ہے اور کلی اختیار رکھتا ہے اس کے باوجود عہد کے بارہ میں ایک ایسا عدل کا معاملہ بندوں سے کرتا ہے کہ فرمایا:۔وَأَوْفُوا بِعَهْدِى أَوْفِ بِعَهْدِكُمْ (البقرة 41:2) کہ عہد دوطرفہ ہو ا کرتا ہے۔مجھ پر بھی یہ اسی طرح فرض ہے جیسے تم پر۔میں نے عہد باندھا ہے اور میں اقرار کرتا ہوں کہ تم عہد کی پابندی کرتے چلے جاؤ میں بھی عہد کی پابندی کرتا چلا جاؤں گا۔ایفائے عہد کی جزاء: پاس عہد میں اب تک عہد شکنی کا ذکر چل رہا تھا اب دیکھنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان نیک بندوں کا کس رنگ میں ذکر فرماتا ہے جو اپنے عہدوں کو پورا کرتے ہیں فرماتا ہے: الَّذِينَ يُوفُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَلَا يَنْقُضُونَ الْمِيْثَاقَ وَالَّذِينَ يَصِلُونَ مَا اَمَرَ اللهُ بِمَ أَنْ يُوصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ يَخَافُونَ سُوءَ الْحِسَابِ وَالَّذِيْنَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمُ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ أُولَكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ جَثْتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ بَابِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّتِهِمْ وَالْمَلَكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَابِ (الرعد 21:13 24) (یعنی) وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کئے ہوئے) عہد کو پورا کرتے ہیں اور میثاق کو نہیں توڑتے۔اور وہ لوگ جو اُ سے جوڑتے ہیں جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور برے حساب سے خوف کھاتے ہیں۔اور وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کی رضا کی خاطر صبر کیا اور نماز کو قائم کیا اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا اس میں سے چھپا کر بھی اورا علانیہ بھی خرچ کیا اور جو