عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 200
200 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه سوم وغیرہ کو الگ الگ زیر بحث نہیں لایا گیا بلکہ مذہبی قوموں کے انحطاط کے وقت جو جو نفسیاتی بیماریاں عموماً سر اٹھاتی ہیں۔ان کا قسموں کے طور پر ذکر کر دیا گیا ہے۔چنانچہ فرمایا: إِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَاَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيْلًا أُولَبِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمُ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيِّمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمُ ( آل عمران 78:3 یقینا وہ لوگ جو اللہ کے عہدوں اور اپنی قسموں کو معمولی قیمت میں بیچ دیتے ہیں یہی ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا اور اللہ ان سے کلام نہیں کرے گا اور وہ قیامت کے دن ان پر نظر نہ ڈالے گا اور انہیں پاک نہیں کرے گا۔اور ان کے لئے دردناک عذاب ( مقدر) ہے۔یعنی وہ لوگ جو اللہ کے عہد کے بالمقابل ادنی ادنی قیمتیں لے کر عہد شکنی پر آمادہ ہو جاتے ہیں گویا خدا کے عہد کو تھوڑے سے مول لے کر ذلیل سی دنیا کی چیزوں کی خاطر بیچ ڈالتے ہیں انہوں نے دنیا کی خاطر دنیا کمانے کے لئے اللہ سے منہ پھیرا ہے اسکی مناسب حال نہایت دردناک سزا یہ ہوگی کہ قیامت کے دن انہیں کچھ نہیں ملے گا اور اللہ ان سے منہ پھیر لے گا۔مگر اس سے بہت بڑی سزا یہ بیان فرمائی گئی کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے کلام نہیں فرمائے گا۔عموماً آیت کے اس حصہ کو پڑھ کر ذہن اخروی زندگی کی طرف چلا جاتا ہے۔پڑھنے والا سمجھتا ہے کہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ ان سے کلام نہیں کرے گا اگر چہ یہ معنی بھی درست ہے مگر محض یہی معنی نہیں۔پس جو اس دنیا میں کلام الہی سے محروم رہ جائے یعنی بطور سزا یہ اسکا مقدر بن گیا ہو اخروی دنیا میں بھی یہی سزا زیادہ شدید اور دردناک طور پر اس کو ملے گی۔پھر فرمایا وَلَا يَنظُرُ إِلَيْهِمُ ان کی طرف دیکھے گا بھی نہیں۔اس حصہ کا تعلق بھی دراصل محض آخرت سے نہیں بلکہ اس دنیا سے بھی ہے۔پھر " وَلَا يُز كُيْهِمْ “ کہہ کر یہ فرمایا کہ خدا تعالیٰ یز ان کو پاک نہیں کرے گا۔آیت کے اس حصہ نے مضمون کو بالکل کھول دیا ہے اور اس بات کا کوئی شبہ باقی نہیں رہنے دیا کہ یہ محض آخرت کی باتیں نہیں ہیں بلکہ اس دنیا میں ہونے والے قدرتی سلوک کا بھی ذکر ہو رہا ہے۔تزکیہ کا وقت تو اس دنیا میں ہوا کرتا ہے۔نظر رکھنے سے مراد ہرگز یہ نہیں ہے کہ خدا کی نگاہ سے باہر رہتا ہے۔کوئی چیز خدا کی نگاہ سے باہر نہیں۔مراد محض اس کیفیت کا اظہار ہے جو ناراضگی کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے گویا کوئی انسان کسی کو