عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 202
202 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه سوم نیکیوں کے ذریعہ برائیوں کو دور کرتے رہتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے گھر کا ( بہترین) انجام ہے۔(یعنی) دوام کی جنتیں ہیں۔ان میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بھی جو ان کے آباء و اجداد اور ان کے ازواج اور ان کی اولادوں میں سے اصلاح پذیر ہوئے۔اور فرشتے ان پر ہر دروازے سے داخل ہو رہے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ یہاں فرماتا ہے کہ جو کچھ بھی اپنے رب سے پاتے ہیں اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں اعلانیہ بھی چھپ چھپ کے بھی۔کیونکہ وہ ریا کاری نہیں چاہتے اور اعلانیہ بھی تا کہ لوگ ان سے نمونہ پکڑ کرنیکیوں میں ترقی کریں۔اور وہ ہمیشہ جب بُرائی کو دور کرتے ہیں تو نیکی کے بدلہ دور کرتے ہیں، اچھی چیز پیش کر کے دور کرتے ہیں۔پس ہر بدی جس کا قرآن میں ذکر موجود ہے اس کے مقابل پر لاز ما اس نوع سے تعلق رکھنے والی نیکی کا بھی ذکر ہے۔پس جھوٹ کو دور کرتے ہیں تو سچ کے ذریعہ ظلم کو دور کرتے ہیں تو رحم اور شفقت کے ذریعہ۔ويَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ كَا ویساہی مطلب ہوگا جیسا فرمایا گیا کہ جاء الحق و زهق الباطل۔یہ ایسے ہی ہے جیسے کہا جائے کہ دن چڑھ گیا اور اندھیر از ائل ہو گیا ہے۔جیسی اخلاقی تعلیم انسانوں کو دی گئی ویسی ہی تعلیم کا اللہ تعالیٰ خودا اپنے آپ کو پابند کرتا ہے: قرآن کریم کی ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے آپ کو اس بات کا پابند فرماتا ہے کہ ان نشانات کے بدلہ میں جنہیں اس نے منسوخ فرما دیا ہے یا مٹنے دیا ہے کم سے کم ویسے ہی اور نشانات لے آتا ہے بلکہ ان سے بھی بہتر۔یہ اصول حسب ذیل آیت کریمہ میں بیان فرمایا گیا ہے۔مَا نَنُسَخُ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا ( البقرة 107:2) ترجمہ: جو آیت بھی ہم منسوخ کر دیں یا اُسے بھلا دیں ، اُس جیسی یا اس سے بہتر ضرور لے آتے ہیں۔یہ آیت عموماً علماء سابقہ کی طرف سے قرآن کریم کی دوسری آیات کی تنسیخ کے تعلق میں بیان کی جاتی ہے۔یعنی خدا تعالیٰ جب قرآن کریم کی بعض آیات منسوخ فرماتا ہے تو ان کے بدلہ ویسی ہی اور