عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 135 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 135

عبادت میں عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی کا مقام 135 ہے اور اگر مسجد قریب ہو تو وہاں جا کر وقت مقررہ پر باجماعت نماز ادا کرنے میں کوئی مشکل در پیش نہیں ہونی چاہئے۔باقی چار نمازیں ایسے اوقات میں ادا کی جاتی ہیں کہ جب لوگ عموماً اپنے ضروری دنیوی کاموں سے فارغ ہو چکے ہوتے ہیں۔تاہم بعض صورتوں میں ایک شخص کے پیشہ وارانہ فرائض اس بات میں روک بن جاتے ہیں کہ وہ شخص تمام نمازیں مسجد میں جا کر ادا کرے۔مثلاً کسان طلوع فجر سے بہت پہلے اپنا کام شروع کر چکے ہوتے ہیں اور چرواہے اپنے ریوڑ دور دراز کی چرا گاہوں کی طرف ہانک لے جاتے ہیں۔ایسے لوگوں کیلئے یہ امر بہر حال مشکل اور دقت طلب ہے کہ اپنا کام چھوڑ کر قریبی مساجد کی تلاش میں نکل کھڑے ہوں۔اس لئے انہیں رخصت دی گئی ہے کہ جہاں نماز کا وقت ہو جائے وہیں ادا کر لیں۔یہ رخصت عدل کے تقاضوں کے مطابق نہیں بلکہ یہ ایک قدم آگے بڑھ کر احسان کے دائرہ میں داخل ہو جاتی ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ: ایک مرتبہ ایک گڈریے نے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انفرادی نماز کی نسبت نماز باجماعت کی فضیلت پر بہت زور دیا ہے تو اس نے نہایت عاجزی سے عرض کیا کہ اس کا زیادہ تر وقت تو آبادی سے دور صحرا میں گزرتا ہے وہ کس طرح نماز باجماعت ادا کر سکتا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسی صورت میں کہ جب صحرا میں نماز کا وقت ہو جائے تو اذان کہو۔اگر تو قرب و جوار میں کوئی مومن موجود ہوا تو تم سے آن ملے گا یوں تم نماز باجماعت ادا کر سکو گے بصورت دیگر جب تم نماز کیلئے کھڑے ہو گے تو فرشتے آسمان سے اتر کر تمہارے ساتھ نماز میں شامل ہو جائیں گے۔اس حدیث مبارکہ سے کئی نتائج اخذ کئے جاسکتے ہیں: 1: اگر کسی کی راہ میں اس کے پیشہ وارانہ فرائض حائل ہوں تو اسے نمازوں کیلئے مسجد آنے سے رخصت ہے۔2: اگر وہ اپنی سہولت والی جگہوں پر نماز باجماعت کا بآسانی انتظام کر سکے تو باقاعدہ مسجد میں جا کر نماز ادا نہ کر سکنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے حضور اس کی نماز با جماعت ہی شمار ہوگی۔3: اگر اس کی خواہش کے باوجود کوئی دوسرا شخص نماز با جماعت کیلئے نہ ملے تو بھی اللہ تعالیٰ اس