عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 134 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 134

134 عدل، احسان اور ایتاء ذى القربى - حصه دوم وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ اِنَّ اَنْكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيْرِ (لقمان 20:31) ترجمہ: اور اپنی آواز کو دھیما رکھ۔یقیناً سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔بیان کیا جاتا ہے کہ ممتاز مسلم صوفی بزرگ، حضرت شیخ سعدی شیرازی ایک مرتبہ ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جو بآواز بلند تلاوت قرآن کریم میں مصروف تھا۔بدقسمتی سے اس کی آواز نہایت بھڑی تھی۔آپ نے اُسے نرم اور دھیمے لہجہ میں تلاوت کی نصیحت فرمائی۔اس پر وہ بولا : میں تو محض خدا تعالیٰ کی خاطر بآواز بلند تلاوت کر رہا ہوں۔تم دخل اندازی کرنے والے کون ہوتے ہو؟‘ شیخ سعدی نے جواباً فرمایا: ”خدارا! اس قد را ونچی آواز میں تلاوت نہ کر دور نہ لوگ اللہ اور اس کے اس پاکیزہ کلام سے ہی برگشتہ ہو جائیں گے۔“ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہونے کا دعویدار ہے چنانچہ اس کے طریق عبادت میں بھی اس کے الہامی سرچشمہ کی آفاقیت نظر آنی چاہئے۔یہ عدل کے تقاضے کے منافی ہوگا کہ لوگوں پر کوئی ایسا نیا طریق عبادت عائد کر دیا جائے جو ان کے سابقہ روایتی طریق کو بالکل رد کر دے یہاں تک کہ انہیں اسلام کے تجویز کردہ طریق اور اپنے طریق میں کوئی مشابہت ہی دکھائی نہ دے۔بعض مذاہب میں لوگ دوزانو بیٹھ کر ذکر الہی کرتے ہیں اور بعض میں رکوع کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔مختلف لوگ مختلف طریق پسند کرتے ہیں۔بعض خدا کے حضور بازو کھلے چھوڑ کر اور بعض باز و تہہ کر کے کھڑے ہوتے ہیں۔بعض مذاہب میں جھک جانا ہی عبادت کے مرکزی نقطہ کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ بعض دیگر مذاہب میں پیشانی کو زمین پر رکھ دینا عقیدت کے اظہار کا نقطۂ معراج سمجھا جاتا ہے۔اسلام نے بڑی جامعیت کے ساتھ ان سب طریق ہائے عبادت کو اس طرح یکجا کر دیا ہے کہ جزوی طور پر ہر مذہب کی نمائندگی ہو جاتی ہے۔اسلامی احکام نماز میں معاشرے کے ہر طبقے اور ہر انسانی حالت کا خیال رکھا گیا ہے۔مسجد کے قرب و جوار میں آباد تندرست مردوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ دن میں پانچ مرتبہ نماز باجماعت کی ادائیگی کیلئے مسجد جائیں اور نمازوں کے اوقات اس طرح مقرر کئے گئے ہیں کہ عموماً وہ کسی کے روزمرہ پروگرام میں مخل نہیں ہوتے۔مثلاً نماز ظہر دو پہر کے کھانے کے وقفہ میں بآسانی ادا کی جاسکتی