عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 108
108 عدل، احسان اور ایتاء ذى القربى - حصه دوم بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنَ بِاللهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (البقرة 2: 257) ترجمہ: دین میں کوئی جبر نہیں۔یقیناً ہدایت گمراہی سے کھل کر نمایاں ہو چکی۔پس جو کوئی شیطان کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے تو یقیناً اس نے ایک ایسے مضبوط کڑے کو پکڑ لیا جس کا ٹوٹا ممکن نہیں۔اور اللہ بہت سنے والا ( اور ) دائمی علم رکھنے والا ہے۔دین کے معاملے میں کسی قسم کا جبر جائز نہیں ہے۔ہر شخص مکمل طور پر آزاد ہے۔کسی مذہب میں یہ اجازت نہیں دی گئی کہ کسی کا دین زبر دستی تبدیل کیا جائے اور نہ ہی یہ اجازت ہے کہ کسی شخص کو اپنا مذہب چھوڑنے سے زبر دستی روکا جائے۔مزید برآں یہ کہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّینِ کا اعلان فطرت انسانی کا ایک غیر مبدل قانون ہے یعنی اگر طاقت استعمال کی بھی جائے تو یہ دین کے معاملے میں بے اثر ثابت ہوتی ہے کیونکہ طاقت کے بل بوتے پر دل و دماغ کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔زبردستی ایسا کرنا بالکل بے سود ہے جس کا نتیجہ جبر و استبداد کے سوا کچھ نہیں نکلا کرتا۔اس آیت میں تمام ادیان کیلئے طاقت کے استعمال کی کلی نفی کی گئی ہے کیونکہ ”دین“ کا لفظ عام ہے جس کا اطلاق محض اسلام پر ہی نہیں بلکہ تمام ادیان پر یکساں ہوتا ہے۔بظاہر تو بعض دوسرے ادیان بھی طاقت کے استعمال کا انکار کرتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ آیا ان کی الہامی کتب میں یتعلیم اس قدر وضاحت سے موجود بھی ہے یا نہیں؟ میرا خیال ہے کہ اصولی طور پر ایسی تعلیم تمام الہامی کتب میں مل سکتی ہے لیکن ممکن ہے کہ وہ اس قدر جامع نہ ہو بلکہ مقابلہ نہایت ابتدائی قسم کی ہو۔یہ بھی عین ممکن ہے کہ بعد کے پیروکاروں نے اپنے مقاصد کی خاطر اس میں کئی باتیں شامل کر لی ہوں لیکن یہ ایک الگ معاملہ ہے۔جہاں تک قرآن کریم کا تعلق ہے تو وہ اس بنیادی قانون کو بیان کر کے خاموش نہیں ہوجا تا بلکہ دیگر مذاہب کو بھی اس الزام سے بری الذمہ قرار دیتا ہے کہ انہوں نے اپنی تعلیمات کو پھیلانے کی خاطر طاقت کا استعمال کیا تھا۔قرآن کریم گزشتہ انبیا اور ان کی تعلیمات کا ذکر کرتے ہوئے یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ آزادی ضمیر کے علمبر دار تھے جبکہ ان کے بالمقابل ہمیشہ سے حق کی مخالفت کرنے والوں نے جبر و استبداد کے ذریعے اسے دبانے کی کوشش کی۔مذہب کی اس تاریخ سے جس کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے، صاف طور پر عیاں ہوتا ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت اور رہنمائی کیلئے انبیا کا سلسلہ قائم فرمایا ہے تب سے