عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 109 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 109

مذہب میں آزادئ ضمیر 109 دو متضاد نظریات کے مابین ایک مستقل کشمکش جاری ہے۔ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کے انبیا ہیں جنہیں الہام کے ذریعے ہدایت ملتی ہے اور پھر وہ اپنی اپنی قوم کو اسی کی طرف بلاتے ہیں لیکن اس بات میں ان کو آزاد چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ چاہیں تو اس پیغام کو قبول کر لیں اور چاہیں تو انکار کر دیں۔وہ یہ اعلان کرتے ہیں کہ نہ تو انہیںاپنی تعلیم کس پر زبردستی ٹھونسنے کا اختیار ہے اور نہ ہی وہ ایسا کرنے پر ایمان رکھتے ہیں۔جبکہ دوسری طرف ان کے معاندین ہوتے ہیں جو مسلسل نہ صرف جبر سے کام لینے کے عقیدے کو ظاہر کرتے بلکہ دوسروں کو اپنے مذہب کی تبلیغ سے جبراً روکنے کا عملی مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔وہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ اگر تم دلائل کے ذریعے ہمارا مذہب تبدیل کروانے کی کوششوں سے باز نہ آئے تو تمہیں اس کی سخت سزادی جائے گی اور ہم میں سے جو لوگ بھی نیا دین قبول کرنے کیلئے ارتداد اختیار کریں گے تو ان کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک کیا جائے گا کہ وہ عبرت کا نشان بن جائیں گے۔پس قرآن کریم کی رو سے ہر سچا نبی آزادی ضمیر کا ہی اعلان کرتا ہے جبکہ ہر جھوٹا مخالف جبر واستبداد کا علمبردار ہوتا ہے اور سچائی کو طاقت کے ذریعے پھیلنے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔قرآن کریم نے اس کی بہت سی مثالیں پیش کی ہیں۔حضرت شعیب علیہ السلام کے ذکر میں فرمایا: قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِنْ قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يُشْعَيْبُ وَالَّذِيْنَ أَمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كُرِهِينَ (الاعراف 89:7) ترجمہ: اس کی قوم کے ان سرداروں نے جنہوں نے استکبار کیا تھا کہا کہ اے شعیب ! ہم ضرور تجھے اپنی بستی سے نکال دیں گے اور ان لوگوں کو بھی جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں یا تم لازماً ہماری ملت میں واپس آجاؤ گے۔اس نے کہا کیا اس صورت میں بھی کہ ہم سخت کراہت کر رہے ہوں؟ بالفاظ دیگر حضرت شعیب علیہ السلام سے کہا گیا کہ اگر تم ہمارے مذہب سے ارتداد اختیار کرو گے تو ہم تمہیں اپنے ملک میں رہنے نہیں دیں گے۔یہ سن کر آپ نے صرف اتنا فرمایا کہ ” کیا اس صورت میں بھی کہ ہم نا پسند کرتے ہوں؟ حضرت شعیب علیہ السلام کا یہ پر مغز بیان آپ کے معاندین کے چیلنج کا کمال پر حکمت اور فیصلہ کن جواب تھا۔یہ امر بالکل واضح ہے کہ اگر کسی کا دل کسی مذہب سے متنفر ہو جائے تو جلا وطنی کی دھمکیاں اسے