عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 97
اسلام مذہبی تعلیمات کا منتهی 97 ریگزار میں پیدا ہونے والا ایک اُمی اس گہری اور کامل حکمت کا سرچشمہ بن گیا؟ اپنی انہی اعجازی خوبیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کریم بار بار یہ دعویٰ فرماتا ہے: قُل لَّبِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا ( بنی اسرائیل 89:17) ترجمہ: تو کہہ دے کہ اگر جن و انس سب اکٹھے ہو جائیں کہ اس قرآن کی مثل لے آئیں تو وہ اس کی مثل نہیں لاسکیں گے خواہ ان میں سے بعض بعض کے مددگار ہوں۔بلا شبہ آج تک کوئی اس چیلنج کا جواب نہیں دے سکا۔بنی نوع انسان کیلئے ہدایت: موروثی گناہ کی بحث کے بعد اب ہم مذہب کے ایک مثبت پہلو کو لیتے ہیں جو بنی نوع انسان کیلئے خدا تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی کا تصور ہے۔دنیا میں بہت سے ایسے مذاہب گزرے ہیں جو کسی ایک قوم یا دور کے ساتھ مخصوص تھے۔انہوں نے تاریخ انسانی میں اگر چہ بہت عظیم کردارادا کیا لیکن ان کے کردار کی عظمت اور ان کا فیض صرف چند قوموں تک محد و در ہا اور ان کا زمانہ بھی محدود تھا یعنی گزشتہ اقوام کو جو مذاہب اور تعلیمات دی گئی تھیں وہ تمام زمانوں کیلئے نہیں تھیں۔بدلتے ہوئے حالات نئی تعلیمات کے متقاضی تھے۔چنانچہ جب سابقہ تعلیمات کی ضرورت نہ رہی تو خدا تعالیٰ نے انہیں تبدیل فرما دیا اور ان کی جگہ نئے دین کی بنیا د رکھ دی۔مذہب کا از سر نو احیاء ہوا اور پھر ایک عرصہ تک یہ تعلیمات ضرورتِ زمانہ کے اعتبار سے قابل عمل رہیں۔مذاہب کا یہ وہ فلسفہ ہے جو بظاہر سادہ اور عام فہم ہے لیکن تعجب ہے کہ قرآن کریم کے سوا کسی اور الہامی کتاب میں اس بچے فلسفے کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔دیگر تمام مذہبی کتب دنیا کے دوسرے انسانوں سے کلیہ بے نیاز محض ایک قوم کا ذکر اس طرح کرتی ہیں گویا خدا نے ہدایت کیلئے صرف اسی ایک قوم کو منتخب کر لیا تھا اور باقی سب اقوام نعوذ باللہ اس کے رحم سے محروم ہو کر رہ گئی تھیں اور ان میں کوئی بھی فرستادہ مبعوث نہ ہوا جو انہیں ہدایت دیتا۔اسلام کے سوا کسی اور مذہب نے یہ ذکر تک نہیں کیا کہ دیگر اقوام عالم یا زمانوں میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایت اور رہنمائی نازل ہوئی تھی۔یہ دعوئی خواہ کیسا ہی عجیب کیوں نہ دکھائی دے