عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 98
98 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول بلا شبہ حق پر مبنی ہے اور آج بھی دیگر کتب سماویہ کا مطالعہ اس بیان کی صداقت کو تسلیم کرنے پر مجبور کرتا ہے۔صرف قرآن کریم ہی ہے جو ایک ایسے عالمگیر خدا کا تصور پیش کرتا ہے جو ہر ملک اور ہر زمانے کے لوگوں سے ہمکلام ہوتا رہا ہے۔چنانچہ جہاں تک مختلف اقوام کا تعلق ہے قرآن کریم فرماتا ہے: وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ (الرعد 8:13) ترجمہ: اور ہر قوم کیلئے ایک راہنما ہوتا ہے۔بنی نوع انسان زمانی، جغرافیائی اور قومی اعتبار سے منقسم ہیں۔قدیم زمانوں میں مملکت کی شناخت ملکوں کی بجائے بستیوں اور شہروں کے ساتھ وابستہ تھی۔قرآن کریم نہ تو قومی تفریق کرتا ہے اور نہ ہی جغرافیائی۔چنانچہ فرمایا: وَمَا أَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا لَهَا مُنْذِرُونَ ذِكْرَى وَمَا كُنَّا ظُلِمِينَ (الشعراء210،209:26) ترجمہ: اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہیں کی مگر اس کے لئے ڈرانے والے بھیجے جاچکے ) تھے۔( یہ ) ایک بڑا عبرتناک ذکر ( ہے ) اور ہم ہرگز ظلم کرنے والے نہیں تھے۔ذِکری کا ترجمہ یہاں نصیحت کیا گیا ہے لیکن اس لفظ کے اور بھی معانی ہیں۔اس کے ایک معنی دوسروں کیلئے سبق کے بھی ہیں۔اسی طرح ایک معنی خدا تعالیٰ کی یاد کے بھی ہیں۔پس انبیاء کو محض نذ یرقرار نہیں دیا گیا بلکہ لوگوں کیلئے خوشخبریاں دینے والا بھی کہا گیا ہے جن کے نقش قدم پر چل کر انسان خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے۔وہ یونانی دیو مالائی قصوں میں مذکورایسے ناصح نہیں تھے جولوگوں کیلئے بدشگونی کا باعث ہوں اور ان ہلاکتوں سے بچنے کا کوئی موقع ہی میسر نہ ہو جن کی وہ خبر دیتے تھے۔بلکہ وہ تو نیک نصائح کرنے والے ایسے انبیاء تھے جو لوگوں کو گزشتہ اقوام کی تاریخ سے سبق سکھاتے تھے۔انہوں نے لوگوں کو اس امر کا قائل کرنے کی کوشش کی کہ گزشتہ اقوام کی تاریخ کی روشنی میں وہ اپنے طرز عمل میں تبدیلی پیدا کریں۔خدا کے یہ فرستادے محض ہلاکت اور تباہی کے دروازے بند کرنے نہیں آئے تھے بلکہ در حقیقت نجات کے دروازے کھولنے آئے تھے۔