ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 5 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 5

5 ادب المسيح ایک ایسا محکم ثبوت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ذیل کے فرمان میں بیان کیا ہے۔فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (يونس: 17) ترجمہ: ان کفار سے کہہ دے کہ اس سے پہلے میں نے ایک عمر تم میں بسر کی ہے۔یہاں پر عمر سے مراد وقت نہیں ہو سکتا کیونکہ آنحضرت کے وقت میں بہت سے لوگ ہوں گے جنہوں نے ایک عمرا اپنی قوم کے ساتھ گزاری ہوگی۔یہاں پر عُمُرًا" سے مراد آپ کے اطوار حسنہ اور قلبی رجحانات ہی ہو سکتے ہیں جو آپ کی صداقت پر دلیل بن سکیں۔دوسری نوعی خصوصیت یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ دونوں مجموعہ ہائے کلام میں موضوعات متحد ہیں مگر کلام فرخ کے مطالعہ کے بعد ہر صاحب ذوق سلیم اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ اس کلام میں تاثیر اور جذب کی وہ خوبی نہیں جو کہ آپ کے بعثت کے بعد کے کلام میں تجلیات محبوب حقیقی اور اس کے قرب و وصال نے پیدا کی ہے۔یہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ جیسے درجہ بدرجہ آپ حضرت کی روحانی ترقی ہوئی اسی انداز سے آپ کے کلام نے بھی نشو و نما حاصل کی یہاں تک کہ وہ اپنے حقیقی منصب تک پہنچ گیا۔آپ کے کلام میں اس انقلاب کا ظاہر ہونا اس امر کا ثبوت ہے کہ آپ ایک وقت کے بعد مورد تجلیات الہیہ تھے اور آپ کا کلام وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى (النجم: 4) کے درجے پر پہنچ گیا تھا۔جیسے حضرت اقدس اس آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : یعنی اس کا کوئی نطق اور کوئی کلمہ اپنے نفس اور ہوا کی طرف سے نہیں۔وہ تو سراسر وحی ہے جو اس کے دل پر (دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) نازل ہو رہی ہے۔جیسے فرمایا: حکم است آسمان بز میں میرسانمش گر بشنوم نگو نمش آن را کجا برم ترجمہ: آسمان کا حکم میں زمین تک پہنچاتا ہوں ،اگر میں اسے سنوں اور لوگوں تک نہ پہنچاؤں تو اس کو کہاں لے جاؤں۔من خود نگویم اینکه بلوح خدا ہمیں است گر طاقت ست محو کن آں نقش داورم ترجمہ: میں خود یہ بات نہیں کہتا بلکہ لوح محفوظ میں ایسا ہی لکھا ہے۔اگر تجھ میں طاقت ہے تو خدا کے لکھے ہوئے کومٹادے۔