ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 188 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 188

ب المسيح 188 کرنے کے لیے محبت الہی کی سعادت اور نیک بختی اور بصیرت ضروری ہے۔اصناف شعر میں ان کی ہیئت کے اعتبار سے غزل کی صنف ایسی ہے کہ وہ اپنے مواد میں محبوب کے حسن و جمال اور اس کی محبت کے بیان میں محدود ہے اس لیے مواد ادب کے تناظر میں اگر یہ کہا جائے کہ حضرت اقدس کا کلام محبوب حقیقی کے عشق کی ایک ایسی داستان ہے جو اصناف شعر کو تبدیل کرتی رہتی ہے مگر اپنے مواد اور ترجیحات قلبی کے اعتبار سے مستقل الحال اور قال ہے تو بالکل درست ہوگا۔جیسے کہ کہا گیا ہے۔عاشق زار در ہمہ گفتار سخن خود کشد بجانب یار عاشق زار اپنی تمام گفتار کا رُخ محبوب کی طرف موڑ لیتا ہے یہ وہ شرائط اور لوازم ہیں جن کا اثبات اس منفر د ادب عالیہ کے حقیقی فہم اور ادراک کے لیے ضروری ہے حضرت اقدس کے شعری کلام کو ان کے موضوعات کے تحت پیش کرنے سے قبل ان گذارشات کا پیش کرنا ضروری تھا۔خواہ ان کی تکرا ر ہی کیوں نہ ہو ایک اور بات جس کا ابتدا میں ضمنا ذکر ہوا ہے قدرے تفصیل طلب ہے۔ہم نے یہ کہا ہے کہ ادب مرسلین میں محبت الہی کا موضوع ایک مرکزی نقطہ ہے جس کے گردان صاحب اکرام ہستیوں کے کلام کے تمام موضوعات طواف کرتے ہیں۔یہ حقیقت ایسی نہیں کہ دیدہ ور محبان الہی سے پوشیدہ ہو۔کیونکہ آپ کے کلام میں جس قدر عنوانات آتے ہیں ان کا بیان دراصل اُس محبوب حقیقی کی طرف اشارہ کر رہا ہوتا ہے مگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ حضرت کے کلام کی اس خصوصیت کو ایک مثال کے ساتھ پیش کریں حضرت اقدس کے کلام کی ایک مخصوص اور دلبرانہ ادا یہ ہے کہ آپ (ایک ہی نظم یا غزل میں ) حمد و ثنا سے عشق رسول اور عشق رسول سے عشق قرآن اور پھر صداقت اسلام اور مناجات کی طرف اور پھر اس ترتیب کے برعکس بھی اس خوبصورتی سے گریز کرتے ہیں کہ یہ سب مضامین با وجود باہم دگر مختلف ہونے کے ایک ہی نظم میں ایسے کھل مل جاتے ہیں کہ جیسے رنگا رنگ پھولوں کو اس طور سے ترتیب دیا جائے کہ ان کا انفرادی حسن بھی قائم رہتا ہو اور اجتماعی حسن بھی ایک گلدستے کے طور پر اپنا حسن و جمال دکھا رہا ہو۔اور جیسا کہ ظاہر ہے کہ یہ سب مضامین محبت الہی کے اظہار کی تجلیات ہیں آپ حضرت کے کلام کی یہ دلفریب ادا تینوں زبانوں میں عیاں ہے مگر کیونکہ آپ حضرت کے کلام کی اوّل مخاطب اردو زبان بولنے والی قوم ہے اس لیے آپ کی ایک اردو نظم کی مثال پیش کرتے ہیں۔آپ حضرت کی ایک نظم شانِ اسلام" کے عنوان سے درمشین میں درج ہے۔آپ اس عنوان کے تحت اوّل