ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 187 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 187

187 ادب المسيح حضرت اقدس کا کلام ایک منفر د مکتب ادب ہے گذشتہ میں بہت دفعہ کہا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود کا شعری خزانہ ایک جداگانہ اور منفر دمکتب شعر ہے یہ وہی مکتب ادب ہے جو حضرت داؤد کے مزامیر اور حضرت سلیمان کی غزل الغزلات کی صورت میں سفر کرتے ہوئے ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے جوامع الکلم کے موضوعات کے اتباع میں ہمارے پیارے مہدی آخر زمان اور مسیح دوراں تک پہنچا ہے۔ان تمام مکاتیب ادب میں جو وجہ اشتراک اور یکجہتی ہے وہ منشاء باری تعالیٰ کی اطاعت میں انسان کو تعلیم دینا اور ان کے دلوں میں محبت الہی کو زندہ کرنا ہے یہی وہ مرکزی نقطہ ہے جس کے گرد ایک دائرے کی طرح سے تمام مرسلین باری تعالیٰ کا کلام طواف کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت کے اشعار کے محاسن پیش کرنے سے قبل ہم نے ادب مرسلین کے محرکات تخلیق ادب اور ترجیحات قلبی کو متعدد اقدار ادبی کے موضوعات کے تحت بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔تا کہ ایسا ہو کہ اس مکتب شعر و ادب کی منفرد نوعیت کا شعور حاصل ہو جائے اور مرسلین کرام کے کلام کے محاسن کو اپنے دل و جان میں قبول کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہو جائے مگر حضرت اقدس کے فرمان کے مطابق اس شعور اور صلاحیت کا پیدا ہونا اسی کو نصیب ہے جو سعید ہو اور جس کی ”فطرت نیک ہو جیسے فرمایا: لوائے ما پنہ ہر سعید خواهد بود ندائے فتح نمایاں بنام ما باشد ہمارا جھنڈا ہر خوش قسمت انسان کی پناہ گاہ ہوگا اور کھلی کھلی فتح کا شہرہ ہمارے نام پر ہوگا اور اردو میں فرماتے ہیں : ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج جس کی فطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار اور فارسی میں نہایت درجہ خوبصورتی سے فرماتے ہیں: فروغ نور عشق او ز بام وقصر ما روشن مگر بیند کسے آں را که میدارد بصیرت را اس کے نور عشق کی تجلی سے ہمارے بام و قصر روشن ہیں لیکن اُسے وہی دیکھتا ہے جو بصیرت رکھتا ہو۔ان اشعار میں ”لوا ” ندا“ اور ”آواز در اصل حضرت اقدس کا کلام ہے مگر اس کو دل و جان سے قبول