ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 99
99 ادب المسيح دوسرے طور پر اپنی صداقت پر خدا تعالیٰ کو گواہ ٹھہرا کر یعنی یہ اعلان کر کے کہ اُن کی صداقت کی شہادت خدا تعالیٰ سے طلب کرو۔دوسرے طور کی شہادت اس قدر قوی اور مستحکم ہوتی ہے کہ اُس کے بعد کسی عقلی اور منطقی استدلال کی ضرورت نہیں رہتی۔یہ شہادت یا تو الہام الہی اور القاء قلبی کے ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے یا مباہلہ کے ذریعہ سے یعنی مرسلین باری تعالیٰ خدا تعالیٰ سے اذن حاصل کر کے اپنے صدق کا ظہور ما نگتے ہیں۔الہام اور القاء کے تعلق میں تو حضرت اقدس سے خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس ذریعہ سے آپ کی دعاوی پر ایمان لانے والوں کی ایک جماعت آپ کو عطا کرے گا۔چنانچہ یہ الہام الہی آپ پر بہت مرتبہ ہوا ینصرک رجال نوحى اليهم من السماء وو " تیری مددوہ لوگ کریں گے جن کے دلوں میں ہم اپنی طرف سے الہام کریں گے ) ( تذکر صفحہ 39 ، 195 ،295، 541،535،301، 623،621 مم مطبوعہ 2004ء) چنانچہ آپ کے سب غلام اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ اُن کے باپ دادوں نے اور آپ کے وقت میں تمام اصحاب نے خدا تعالیٰ سے خبر اور یقین حاصل کر کے آپ کی تصدیق کی۔یہی بات حضرت اقدس نے کس خوبصورتی سے بیان کی ہے فرماتے ہیں:۔بروئے حضرت داوار سوگند عزیزاں مے دہم صدبار سوگند اے دوستو میں تمہیں سینکڑوں قسمیں دیتا ہوں اور جناب الہی کی ذات کی قسمیں دیتا ہوں محبوب دل ابرار سوگند که در کارم جواب از حق بجوئید به کہ میرے معاملہ میں خدا سے ہی جواب مانگو۔میں تمہیں نیکوں کے دلوں کے محبوب کی قسم دیتا ہوں کس قدر درد اور غم سے بھرا ہوا بیان ہے اپنے صدق پر خود ہی گواہ ہے یعنی یہ کہ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسی سے میرا صدق طلب کرو ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: دو چشم خویش صفا کن که تا رخم بینی وگرنه پیش تو صد عدل ہم جفا باشد اپنی دونوں آنکھیں صاف کرتا کہ میرا چہرہ دیکھ سکے ورنہ تیری نظر میں تو ہر انصاف ہی ظلم دکھائی دے گا مرا بریں سخنم آں فضول عیب کند کہ بے خبر ز ره و رسم دین ما باشد میری اس بات میں وہ فضول گو عیب نکالتا ہے جو ہمارے دین کی راہ و رسم سے بے خبر ہے