ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 98
المسيح 98 میں ادبی خوبی کے باوجود وہ تاثیر نہیں جو کہ ایک عاشق صادق کے کلام میں ہوتی ہے اور جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ اُن کا کلام کوئی حقیقی جذ بہ اور قلبی حرکت پیدا نہیں کرتا وعظ اور درس مکتب کی حد تک ہی رہتا ہے۔حضرت اقدس نے اپنے کلام کی اس منفرد اور ممتاز کیفیت کو کہ یہ ایک عاشق صادق اور واصل باللہ کا کلام ہے بہت ہی خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔فرماتے ہیں: من نه واعظ که عاشق زارم آید از طور واعظان عارم مجھے عار ہے میں ایک واعظ نہیں بلکہ عاشق زار ہوں اور واعظوں کے طریق نزد بیگانگاں جنوں زده ام نزد معشوق نیک ہشیارم غیروں کے نزدیک میں جنون میں مبتلا ہوں مگر معشوق کے نزدیک میں بہت ہوشیار ہوں اور اس شعر کے حسن و خوبی کو بھی دیکھیں۔فرماتے ہیں: رائے واعظ اگر چہ رائے من است لیک عشق تو بند پائے من است اگر چہ میری رائے بھی وہی ہے جو واعظ کی رائے ہے مگر تیرے عشق کی بیڑی میرے پاؤں میں پڑی ہوئی ہے۔پیش کردہ نمونے کے اشعار کے باہم دگر تقابل پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے مگر ہمارا مقصد صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ فارسی ابیات میں حضرت اقدس کا منصب کس قدر بلند ہے اور یہ کہ آپ کس شان سے اسالیپ شعر فارسی کی پاسداری کرتے ہوئے اساتذ ہ شعر کے ہم پلہ ہی نہیں بلکہ بدر جہا بہتر ہیں۔مثنوی کی صنف شعر میں اس فن کے اساتذہ سے حضرت اقدس کے کلام کا تقابلی مواز نہ تو پیش کیا جا چکا ہے مگر کیونکہ ہم نے اس موضوع میں ابلاغ رسالت“ کے عنوان میں اشعار پیش کرنے کا دستور اختیار کیا ہے اس لیے ہم چند ایک مثالیں اس موضوع پر آپ حضرت کی فارسی ابیات میں پیش کرتے ہیں۔مرسلین باری تعالیٰ ابلاغ رسالت دوطور سے کرتے ہیں۔اول عقلی براہین اور خدا تعالیٰ سے اپنا تعلق اور اُس کی صفات سے متصف ہونے کو ثابت کر کے۔اس طرز پر حضرت اقدس کی تحریر اور تقریر میں ایک منحنیم خزانہ موجود ہے۔