ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 100
المسيح 100 کجاست مهم صادق که تا حقیقت ما برو عیاں ہمہ از پرده خفا باشد ایسا ملہم صادق کہاں ہے کہ جس پر ہماری حقیقت پردہ حجاب میں سے بھی ظاہر ہو ابیات کی صنف میں بہت سے زر و جواہر پیش کئے جاچکے ہیں۔اس اسلوب شعر پر حضرت اقدس کے منصب عالی کو مزید ظاہر کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔تاہم اس خیال کے پیش نظر کہ ہم نے چند ایک موضوعات شعری اس مضمون کے تحت پیش کرنے کا دستور بنایا ہے۔ابیات میں کچھ ذیلی موضوعات کے اشعار بھی آپ کو سناتے ہیں۔اول حضرت اقدس کے کلام میں آپ حضور کے عقائد کا اعلان سُن لیں۔ابلاغ رسالت میں یہ عنوان اول مقام رکھتا ہے۔فرماتے ہیں: مامسلمانیم از فضل خدا ہم خدا کے فضل ޏ مصطفى ما را امام و مقتدا مسلمان ہیں محمد مصطفے ہمارے امام اور پیشوا ہیں ہم بریس از دار دنیا بگذریم اندریں دیں آمده از مادریم ہم ماں کے پیٹ سے اسی دین میں پیدا ہوئے اور اسی دین پر دُنیا سے گذر جائیں گے آن کتاب حق که قرآن نام اوست باده عرفان ما از جام اوست خدا کی وہ کتاب جس کا نام قرآن ہے ہماری شراب معرفت اُسی جام سے ہے آں رسولے کش محمد ہست نام دامن پاکش بدست ما مدام! وہ رسول جس کا نام محمد ہے۔اُس کا مقدس دامن ہر وقت ہمارے ہاتھ میں ہے مہر او باشیر شد اندر بدن جان شد و باجان بدر خواهد شدن اُس کی محبت ماں کے دودھ کے ساتھ ہمارے بدن میں داخل ہوئی وہ جان بن گئی اور جان کے ساتھ ہی باہر نکلے گی ہست او خیر الرسل خیر الانام وہی خیر الرسل اور خیر الانام ہے اور ہر قسم کی نبوت کی تکمیل اُس پر ہوگئی ما از و نوشیم ہر آہے کہ ہست ہر نبوت را برو شد اختتام زو شده سیراب سیرا بے کہ ہست جو بھی پانی ہے وہ ہم اُسی سے لے کر پیتے ہیں جو بھی سیراب ہے وہ اُسی سے سیراب ہوا ہے آنچہ مارا وحی و ایمائے بود! آں نہ از خود از ہماں جائے بود! جو وحی و الہام ہم پر نازل ہوتا ہے وہ ہماری طرف سے نہیں وہیں سے آتا ہے