ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 66 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 66

المسيح 66 اول قدم پر حضرت کا وہ شعرسُن لیں۔جو آپ کی تمام شعری تخلیقات کا مقصد اور مدعا ہے۔یعنی کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے اس شعر کے بارے میں گذشتہ میں بہت کچھ کہا جا چکا ہے یہ بھی بیان ہوا ہے کہ ڈھب“ کے لفظ کا استعمال میر درد اور حضرت کا ایک ہی ہے اور طرز بیان بھی۔میں نے تو کچھ ظاہر نہ کی تھی دل کی بات وہ مری نظروں کے ڈھب سے پا گیا دوسری مثال عشق میں آلام و مصائب کے معنوں میں ہے میر درد کہتے ہیں۔اذیت۔مصیبت۔ملامت بلا ئیں تیرے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا ایک اور جگہ پر کہتے ہیں۔حضرت اقدس فرماتے ہیں۔ان لبوں نے ہی نہ کی مسیحائی ہم نے سوسو طرح سے مرد یکھا اس عشق میں مصائب سوسو ہیں ہر قدم میں پر کیا کروں کہ اس نے مجھ کو دیا یہی ہے حرف وفا نہ چھوڑوں اس عہد کو نہ توڑوں اس دلیر ازل نے مجھ کو کہا یہی ہے آپ دیکھ لیں مضمون باہم متصل ہے۔عشق کے مصائب کا ذکر ہے۔الفاظ کا انتخاب بھی یک رنگ ہے۔مگر ان سب قرابتوں کے باوجود میر درد کا بیان ایک مشکلات و مصائب کی فہرست معلوم ہوتی ہے۔کسی محبت کا اظہار نہیں۔بلکہ اس مصیبت سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔دوسرے شعر میں مایوس بھی ہیں۔مگر ان کے مقابل پر ہمارے پیارے حضرت کو دیکھو۔آپ ایسے عاشق صادق ہیں کہ مصائب سے آزردہ خاطر نہیں ہوئے۔ان سے نجات حاصل کرنا نہیں چاہتے بلکہ بے انتہا محبت کے انداز میں کہتے ہیں کہ کیونکہ یہ میرے محبوب کی طرف سے آئی ہیں اس لیے بصد محبت و احترام قبول ہیں۔اس کی مرضی پر راضی ہیں۔وفا میں