ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 55 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 55

عربی میں فرماتے ہیں: 55 ادب المسيح وَمَا قُمْتُ فِي هَذَا الْمُقَامِ بِمُنْيَتِى وَيَعْلَمُ رَبِّي سِرَّ قَلْبِي وَيَشْعُرُ مام میں اپنی خواہش سے کھڑا نہیں ہوا۔اور میرا خدا مرے دل کے بھید کو جانتا ہے۔وَكُنتُ امْرَء أَبْغِى الْحُمُولَ مِنَ الصَّبَا مَتى يَاتِنِي مِنْ زَائِرِينَ أَصَعِرُ اور میں ایک آدمی تھا کہ بچپن سے گوشہ گزینی کو دوست رکھتا تھا۔جب کوئی ملنے والا میرے پاس آتا تو میں کنارہ کش ہو جاتا فَاخْرَجَنِي مِنْ حُجُرَتِى حُكْمُ مَالِكِى فَقُمْتُ وَلَمْ أُعْرِضْ وَلَمْ أَتَعَذَّرُ پس مجھے حجرہ میں سے میرے مالک کے حکم نے نکالا۔پس میں اٹھا۔اور نہ میں نے اعراض کیا اور نہ تاخیر کی وَلِلَّهِ سُلْطَانٌ وَّ حُكُمْ وَ شَوَكَةٌ وَنَحْنُ كُمَاةٌ بِالإِشَارَةِ نَحْضُرُ اور خدا کے لیے تسلط اور حکم اور شوکت ہے۔اور ہم وہ سوار ہیں جو اشارہ پر حاضر ہوتے ہیں اور اردو میں فرماتے ہیں۔ابتدا سے گوشئہ خلوت رہا مجھ کو پسند ٹھہر توں سے مجھ کو نفرت تھی ہر اک عظمت سے عار پر مجھے تُو نے ہی اپنے ہاتھ سے ظاہر کیا میں نے کب مانگا تھا یہ تیرا ہی ہے سب برگ و بار اس میں میرا مجرم کیا جب مجھکو یہ فرماں ملا کون ہوں تارڈ کروں حکم شہ ذی الاقتدار اب تو جو فرماں ملا اس کا ادا کرنا ہے کام گرچہ میں ہوں بس ضعیف و ناتوان و دلفگار دیکھ لیں کہ حضرت اقدس کا کلام کس قدر حکم الہی کے تحت ہے۔ان مشاہدات کی روشنی میں یہ حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ گذشتہ میں جو آپ حضرت کے موضوعات شعری بیان ہوئے ہیں وہ بھی دراصل آپ کی سوچ و بچار اور ذاتی ترجیحات کی بناپر قائم نہیں ہوئے بلکہ خدا تعالیٰ کا پیغام پہچانے کی غرض سے ظہور میں آئے ہیں۔