ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 56
ب المسيح 56 ادب مرسلین کی تخلیقی نوعیت کے تعلق میں یہ گذارشات دراصل قرآن کریم کے فرمان کی تفسیر اور تصدیق ہے۔فرمانِ خداوندی ہے۔إِنَّهُ لَقَولُ رَسُوْلِ كَرِيمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَ۔وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ - تَنْزِيلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعَلَمِينَ (الحاقة: 41 تا 44) یعنی یہ کہ انبیاء کا کلام شاعر کا کلام نہیں ہوتا۔نہ ہی کہانت ہوتی ہے۔یہ تو ایک حکم خداوندی ہوتا ہے تنزیل اس مقام پر پیغام“ کے معنوں میں آیا ہے اس طرح سے کہہ لو کہ انبیاء کا کلام شعر تو ہوتا ہے مگر قول شاعر نہیں ہوتا۔کیونکہ شاعر کا کلام اس کے تخیل اور ذاتی جذبے سے ہوتا ہے اور مرسلین کا کلام تَنْزِيلٌ مِنْ رَّبِّ الْعَلَمِيْنَ ہوتا ہے (الحاقة: 44) یعنی اگر کوئی شعر خدا کی طرف سے اور اس کے حکم سے نازل ہو وہ ” قول شاعر نہیں ہوگا۔یہی وہ بات ہے جو حضور نے ان تینوں زبانوں کے اشعار میں بیان کی ہے۔آپ حضور نے ” تنزیل“ کو فرمان الہی کے معنوں میں بیان کیا ہے۔اسی وجہ سے انبیاء کا منظوم کلام شعر تو ہوتا ہے مگر قول شاعر نہیں ہوتا۔ایک بار پھر سن لیں۔اب تو جو فرماں میلا اسکا ادا کرنا ہے کام گرچہ میں ہوں بس ضعیف و ناتوان و دلفگار اس لیے اگر ہم یہ کہیں کہ آپ حضرت نے کبھی تاکیڈا اور توجہ سے شعری ادب کو پیش نہیں کیا تو بالکل درست ہوگا کیونکہ آپ کا کلام ایک پیغام رسانی ہے اور حکم الہی کے تحت ہے۔چنانچہ آپ کا ادبی سرمایہ کسی ادبی منصب کے اظہار کے لیے تخلیق نہیں ہوا بلکہ حکم خداوندی کی بجا آوری کے لیے تشکیل پایا ہے۔اور اگر یہ فرض ادا ہو جاتا ہے تو مزید کوئی مطلوب اور مقصود نہیں ہوتا۔اس امر کے اظہار کے لیے آپ فرماتے ہیں۔کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے کس قدر سادہ اور سلیس اور عام فہم بیان ہے۔(اس کو ادب میں سہلِ ممتنع کہتے ہیں ) اور موقع اور حل بھی ایسا ہی تھا کیونکہ مقصود بیان شعری تکلفات سے صرف نظر کرنا تھا۔اس لیے شعر کو شعری نزاکتوں سے دور ہی رہنا چاہیے تھا۔شعر گوئی بغرض شعر و شاعری سے انکار ہے۔اس لیے کہ شعر گوئی ایک ہنر اور فن ہے اور آپ حضرت کوئی فتنی